عمران فاروق کیس: برطانوی پولیس ٹیم اسلام آباد میں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
برطانوی پولیس افسران کی سات رکنی ٹیم لندن میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں اسلام آباد پہنچی ہے۔
سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانوی پولیس افسران کو عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار صرف ایک ملزم معظم علی تک رسائی دی جائے گی۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر برطانوی ٹیم کو اس کیس میں گرفتار کیےگئے دیگر دو ملزمان سے انٹرویو کرنا ہے تو انھیں اپنے دورے کے دوران اس بارے میں علیحدہ سے درخواست دینا ہو گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سات رکنی برطانوی ٹیم پاکستانی حکام کی موجودگی میں اپنی تحقیقات کرے گی اور یہ سات دن میں مکمل کی جائیں گی۔
دوسری جانب پاکستان کے مقامی میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق سکارٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پیر کو پاکستان پہنچے گی۔
اس سے پہلے منگل کو برطانوی<link type="page"><caption> پولیس کو ایک ملزم تک رسائی دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150623_imran_farooq_murder_case_brit_access_zs.shtml" platform="highweb"/></link> کہ یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ملزم سے تفتیش صرف برطانوی اہلکار کریں گے یا اس میں پاکستانی حکام بھی شریک ہوں گے۔چوہدری نثار نے ملزم کا نام تو نہیں لیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس شخص کو کراچی سے حراست میں لیا گیا تھا۔
رینجرز نے رواں برس اپریل میں کراچی سے<link type="page"><caption> معظم علی نامی شخص کو ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا تھا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/04/150413_sattar_nisar_arrest_fz" platform="highweb"/></link> اور اس وقت وزارت داخلہ نے کہا تھا وہ عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
معظم علی پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر اُن دو افراد کو لندن بھجوایا تھا جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی وزیر داخلہ نے اس وقت یہ بھی تصدیق کی تھی کہ لندن میٹروپولیٹن پولیس کی دو رکنی ٹیم ہفتۂ رواں کے آخر یا آئندہ ہفتے کے آغاز تک پاکستان پہنچ جائے گی۔
انھوں نے کہا تھا کہ عمران فاروق قتل کیس کے دو ملزمان کوئٹہ میں ایف سی کی زیرِ حراست ہیں جبکہ ایک ملزم کراچی میں ہے اور چاہتے ہیں کہ ان تینوں کو اسلام آباد لایا جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جن دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا ہے ان سے تفتیش کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان میں حراست میں لیے گئے دو ملزمان تک رسائی کے لیے ابھی برطانوی حکام کی جانب سے کوئی درخواست نہیں دی گئی اور اگر ایسی کوئی درخواست آئی تو اس پر مناسب فیصلہ ہوگا۔
چوہدری نثار نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس مقدمے کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں اور ایم کیو ایم بھی چاہتی ہے کہ مجرم انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو جو بھی تعاون فراہم کیا جائے گا وہ پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ ایک پاکستانی کا قتل ہے، انتہائی اہم شخصیت کا قتل ہے اور برطانیہ سمیت پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران فاروق کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق ستمبر سنہ 2010 میں لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
میٹروپولیٹن پولیس سروس کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزادانہ سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس نے لندن میں الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کےقتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے جہاں سے مبینہ طور پر بھاری مقدار میں نقدی برآمد کی گئی تھی اور اس کے لندن پولیس نے ڈاکٹر فاروق کے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شروع کر دی تھیں۔
اس کیس میں جاری تحقیقات کے دوران تین جون 2014 میں پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیا تھا اور سات جون کو انھیں ابتدائی تفتیش کے بعد جولائی تک ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔بعد میں ان کی ضمانت میں 14 اپریل اور بعد میں جولائی 2015 تک توسیع کر دی گئی تھی۔
<link type="page"><caption> بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/04/150413_altaf_bail_money_laundering_police_rh" platform="highweb"/></link>
ایم کیو ایم ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے۔







