ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس، اہم ملزم کی گرفتاری

،تصویر کا ذریعہGetty

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ برطانیہ میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس نے مبینہ طور پر اُن دو افراد کو لندن بھجوایا تھا جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں اہم ملزم کی گرفتاری کے بعد یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہوا نظر آرہا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خفیہ اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں اس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے گرفتار ہونے والے شخص کا نام اور سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کے بارے میں تو نہیں بتایا تاہم وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق حراست میں لیے جانے والے شخص کا نام معظم علی ہے اور وہ کراچی میں مقیم ہیں۔

کچھ عرصہ قبل پاکستان کے خفیہ اداروں نے دو افراد محمد کاشف خان اور محسن علی سید کو اُس وقت حراست میں لیا جب وہ سری لنکا سے پاکستان آرہے تھے اور ہوائی جہاز کو رن وے پر روک کر ہی اُنھیں جہاز سے اُتار کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا تاہم اُس وقت کی حکومت کی طرف سے ان افراد کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھاکہ جن دو افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اُن کے مالی حالات تو اتنے اچھے نہیں تھے کہ وہ کراچی سے اسلام آباد میں آسکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ مذکورہ افراد کو لندن بھجوانے اور اُنھیں وہاں پر قیام کرنے کا سارا انتظام حراست میں لیے جانے والے شخص نے ہی کیا تھا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے جانے والے شخص کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ سندھ کی حکومت اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دے گی۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ اس تحقیقاتی ٹیم میں وفاقی اداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں پیش رفت کے بارے میں جلد میڈیا کو آگاہ کریں گے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو ستمبر سنہ دوہزار دس میں لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔