عمران فاروق نیا سیاسی کریئر شروع کرنے والے تھے: پولیس

،تصویر کا ذریعہ
برطانوی دارالحکومت لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے چار سال مکمل ہونے پر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس اس قتل سے متعلق کوئی معلومات ہو تو وہ پولیس سے رابطہ کرے۔
ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔
لندن پولیس نے کہا ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ 50 سالہ ڈاکٹر عمران فاروق اپنی موت سے پہلے ایک نیا آزاد سیاسی کریئر شروع کرنے والےتھے اور پولیس انھی خطوط پر تحقیقات کر رہی ہے۔
بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے متحدہ قومی مومنٹ کے ایک سینئیر راہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی سیاست میں واپسی، پرویز مشرف رد کر چکے ہیں۔ لیکن برطانوی پولیس کے پاس شاید ایسی معلومات ہوں گی جس کی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق نیا سیاسی کیریئر شروع کرنے والے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ عمران فاروق کے ذہن میں کیا تھا اس کا تو ہمیں پتا نہیں تھا‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق نے جولائی 2010 میں ایک فیس بک پروفائل تیار کیا تھا اور شوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں سے رابطہ کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ابھی تک اس مقدمےمیں دو افراد کو گرفتار کیاگیا ہے۔ پولیس نے اپنی اپیل میں کہا کہ اگر کسی پاس اس مقدمے سے متعلق کوئی شواہد ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کر سکتا ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تو وہ کرائم سٹاپر نامی چیرٹی ادارے کو فون نمبر 0800555111 پر تمام معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
لندن پولیس نے کہا ہے کہ اس قتل کی تحقیق کے لیے 4466 لوگوں سے بات کی گئی، 7401 دستاویزات کو پرکھا گیا اور 2379 تفتیشی خطوط پر چلتے ہوئے 3900 دستاویزات حاصل کی گئی ہیں۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور برطانوی پولیس پاکستانی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق قتل کے محرکات اور ذمہ داروں کا پتہ چلانے کے لیے کئی تفتیشی خطوط پر عمل کر رہی ہے۔







