عمران فاروق کیس:برطانوی پولیس کو ایک ملزم تک رسائی دینے کا فیصلہ

عمران فاروق قتل کیس کے دو ملزمان کوئٹہ میں زیرِ حراست ہیں جبکہ ایک ملزم کراچی میں ہے اور چاہتے ہیں کہ ان تینوں کو اسلام آباد لایا جائے: چوہدری نثار

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران فاروق قتل کیس کے دو ملزمان کوئٹہ میں زیرِ حراست ہیں جبکہ ایک ملزم کراچی میں ہے اور چاہتے ہیں کہ ان تینوں کو اسلام آباد لایا جائے: چوہدری نثار
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حکومتِ پاکستان نے برطانوی پولیس کو متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے الزام میں گرفتار ایک ملزم تک رسائی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس بات کا اعلان وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے منگل کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ملزم سے تفتیش صرف برطانوی اہلکار کریں گے یا اس میں پاکستانی حکام بھی شریک ہوں گے۔

چوہدری نثار نے ملزم کا نام تو نہیں لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس شخص کو کراچی سے حراست میں لیا گیا تھا۔

رینجرز نے رواں برس اپریل میں کراچی سے<link type="page"><caption> معظم علی نامی شخص کو ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا تھا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/04/150413_sattar_nisar_arrest_fz" platform="highweb"/></link> اور اس وقت وزارت داخلہ نے کہا تھا وہ عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم ہیں۔

معظم علی پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر اُن دو افراد کو لندن بھجوایا تھا جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کیا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ وہ اس کیس میں برطانوی حکام سے رابطے میں ہیں اور ملزم سے تفتیش کے لیے لندن میٹروپولیٹن پولیس کی دو رکنی ٹیم ہفتۂ رواں کے آخر یا آئندہ ہفتے کے آغاز تک پاکستان پہنچ جائے گی اور اس تعداد میں بعد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

رینجرز نے معظم علی کو رواں برس اپریل میں کراچی سے ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرینجرز نے معظم علی کو رواں برس اپریل میں کراچی سے ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا تھا

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ ہفتے ہم نے سفارتی ذرائع سے انھیں اطلاع دی کہ پہلے مرحلے میں آ کر آپ اس شخص سے تفتیش کر سکتے ہیں۔ فی الحال ہم نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ یہ تفتیش بلاواسطہ ہو گی یا بالواسطہ، مگر ہمیں یہ اطلاع آئی ہے کہ اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے کے شروع میں میٹرو پولیٹن پولیس یہاں پہنچ جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ عمران فاروق قتل کیس کے دو ملزمان کوئٹہ میں ایف سی کی زیرِ حراست ہیں جبکہ ایک ملزم کراچی میں ہے اور چاہتے ہیں کہ ان تینوں کو اسلام آباد لایا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جن دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا ہے ان سے تفتیش کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان میں حراست میں لیے گئے دو ملزمان تک رسائی کے لیے ابھی برطانوی حکام کی جانب سے کوئی درخواست نہیں دی گئی اور اگر ایسی کوئی درخواست آئی تو اس پر مناسب فیصلہ ہوگا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس مقدمے کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں اور ایم کیو ایم بھی چاہتی ہے کہ مجرم انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو جو بھی تعاون فراہم کیا جائے گا وہ پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔

 ڈاکٹر عمران فاروق ستمبر سنہ 2010 میں لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن ڈاکٹر عمران فاروق ستمبر سنہ 2010 میں لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک پاکستانی کا قتل ہے، انتہائی اہم شخصیت کا قتل ہے اور برطانیہ سمیت پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران فاروق کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔‘

یاد رہے کہ برطانیہ میں لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اسے جو ملزمان مطلوب ہیں ان میں سے تین اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں زیرِ حراست ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق ستمبر سنہ 2010 میں لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

میٹروپولیٹن پولیس سروس کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزادانہ سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔