پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی ایک دوسرے کے خلاف مذمتی قراردادیں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے شہر کراچی میں تحریک انصاف اور متحدہ قومی موؤمنٹ ایک بار پھر آمنے سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے برطانوی سفارتخانے میں ایک درخواست جمع کروائی ہے جس میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
رکنِ قومی اسمبلی عارف علوی کی قیادت میں تحریک انصاف کا وفد بدھ کو برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پہنچا اور برطانوی ہائی کمشنر فلپ بارٹن کو ایک درخواست پیش کی۔
تحریک انصاف کراچی کے صدر سید علی حیدر زیدی کا کہنا ہے کہ برطانوی شہری الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر سے محب وطن پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ پاکستانی عوام اپنے قومی اداروں خاص طور پر فوج، اس کے دیگر شعبوں اور رینجرز کا احترام کرتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قابل شرم ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے الطاف حسین برطانیہ کے تحفظ اور سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج اور رینجرز کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے مطابق پاکستان کے لوگ سلطنتِ برطانیہ، حکومت اور لوگوں کی بطور خودمختار ریاست عزت و احترام کرتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ برطانوی شہری بھی پاکستان کے اداروں کی اسی طرح عزت و احترام کریں۔
درخواست میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا برطانوی حکومت اسی قسم کی زہریلی اور نفرت انگیز تقاریر کو نظر انداز کر سکتی ہے اگر کوئی دوہری شہریت رکھنے والا شہری یہ تقریر پاکستان سے کرے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لہٰذا وہ مطالبہ کرتے ہیں الطاف حسین کی تقاریر کو روکا جائے اور قانونی کارروائی کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک دوسرے کے خلاف مذمتی قرار دادیں جمع کرائی ہے جس میں دونوں نے فوج کی توہین کا الزام عائد کیا ہے۔
سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع کرانے کے بعد تحریک انصاف کے رکن اسمبلی حفیظ الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ایک غیر ملکی شخص مسلح افواج اور رینجرز کے خلاف بار بار بات کر رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے الطاف حسین کی تقریروں پر پابندی لگنی چاہیے۔
تحریک انصاف کے اراکین کی روانگی کے چند منٹ بعد ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی کی جانب سے تحریک انصاف کی سربراہ عمران خان کے خلاف مذمتی قرار داد جمع کرائی گئی۔
ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد حسین کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک نجی محفل میں کہا ہے کہ اگر 20 ہزار افراد جمع کر لیے جائیں تو پاکستان فوج کے جنرل کا پیشاب نکل جائے وہ بڑے بزدل ہوتے ہیں۔ یہ ویڈیو منظرِ عام پر بھی آچکی ہے۔
محمد حسین نے سوال کیا کہ عمران خان نے اس قسم کے الفاظ کیوں اور کس وجہ سے ادا کیے، یہ بات سامنے آنی چاہیے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسے شخص نے یہ الفاظ ادا کیے ہیں جس کا ماضی پوری قوم کے سامنے ہے اور سیتا وائیٹ کا سایہ اس کا پیچھا کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دریں اثنا تحریک انصاف نے کراچی کے درخشاں تھانے پر الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست بھی دی ہے۔ درخواست میں رینجرز اور فوج کے خلاف حالیہ تقریر کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اسی بنیاد پر سندھ کے مختلف شہروں میں پہلے ہی الطاف حسین کے خلاف ایک درجن سے زائد مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔
ایم کیو ایم کی جانب سے اسی تھانے میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی گئی ہے۔ جس میں بھی عمران خان کے ویڈیو کلپ کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انھوں نے پاکستان فوج کی توہین کی ہے۔







