’سیاسی مقابلہ کریں گے یا قانونی دفاع‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
متحدہ قومی موومنٹ نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر غور کررہی ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر کی بنیاد پر ملک بھر میں درج کرائے گئے سو سے زائد مقدموں کا سیاسی طور پر مقابلہ کیا جائے یا قانونی دفاع کیا جائے۔
ایم کیو ایم کے مطابق الطاف حسین کی تقاریر کو بنیاد بنا کر پارٹی کے قائد اور دیگر رہنماؤں پر پورے ملک میں کُل 116 مقدمات درج کیے گئے ہیں مگر ان میں سے ایک بھی مقدمے میں رینجرز یا پولیس مدعی نہیں بلکہ تمام مقدمے مختلف افراد کی شکایات پر درج کرائے گئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی پارٹی کے واحد رہنما ہیں جنھوں نے ہائی کورٹ سے اسی طرح کے مقدمے میں عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی ہے۔
بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ان کی پارٹی کے وکلاء ان مقدمات کی قانونی حیثیت پر غور کررہے ہیں مگر ان کے بقول پارٹی کے اندر یہ سوچ بھی ہے کہ ان کا سیاسی طور پر مقابلہ کیا جائے۔
’آپ خود سوچیے کہ کوئی شخص کسی تقریر کو سننے جارہا ہو جس کا متن بھی اسے پتہ نہ ہو کہ کیا تقریر ہونے جارہی ہے اور اس نے وہ تقریر سنی تو بھئی وہ مجرم کیسے ہوسکتا ہے۔ پھر یہ تقریر تو ٹی وی پر نشر ہی نہیں ہوئی تو جن افراد نے یہ سنی ہی نہیں، انھوں نے ایف آئی آر کس بنیاد پر درج کرادی۔‘
انھوں نے کہا کہ پارٹی کے وکلاء اس پر کام کررہے ہیں۔ وہ حتمی طور پر جس نتیجے پر بھی پہنچیں گے، میڈیا کو اس سے آگاہ کیا جائےگا۔
ادھر کراچی کی ایک عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور سابق صوبائی وزیر قمر منصور کو تین دن کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر رینجرز کی تحویل میں دے دیا ہے۔
عدالت نے رینجرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ قمر منصور کو عید کی چھٹیوں کے بعد انسداد دہشتگردی کی عدالت کے سامنے پیش کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قمر منصور اور رابطہ کمیٹی کے انچارج کیف الوریٰ کو جمعے کو علی الصبح رینجرز نے پارٹی کے صدر دفتر نائن زیرو پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔تاہم انھیں جمعے کی شام ہی رہا کردیا گیا تھا۔
رینجرز کا کہنا تھا کہ انھیں عیدالفطر کے لیے اس شرط پر ضمانت پر رہا کیا گیا ہے کہ وہ عید کے بعد رینجرز کو رپورٹ کریں گے۔
رینجرز کا کہنا ہے کہ متحدہ کے دونوں رہنماؤں کو ’کراچی کے امن کے خلاف نفرت انگیز تقاریر‘ کے لیے انتظامات کرنے اور سہولت فراہم کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
رینجرز کے ترجمان نے جمعے کو ایک بیان میں متحدہ کے قائد الطاف حسین کا نام لیے بغیر کہا کہ ’تشدد پر اکسانے والی ان تقاریر میں سندھ رینجرز کے افسران کو ہدف بنایا گیا۔‘
ترجمان نے اسی الزام میں مزید گرفتاریوں کا عندیہ بھی دیا اور کہا کہ ’ایسے سہولت کاروں کی فہرست کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور مستقبل قریب میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔‘
اُدھر الطاف حسین نے لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قمرمنصور کو فی الفور ہسپتال میں داخل کرائیں۔
انھوں نے کہا کہ قمرمنصور کی ہمشیرہ ڈاکٹر مسرت جہاں نے انھیں بتایا ہے کہ قمرمنصور کورینجرز کے حکام ان کی والدہ سے ملاقات کیلئے ہسپتال لائے تھے اورگرفتاری کے بعد قمر منصور کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث وہ قریب المرگ ہیں۔
الطاف حسین نے کہا کہ مسٹر منصور کی والدہ پہلے ہی شدید علیل ہیں اور بیٹے کی گرفتاری کے بعد ان کی حالت مزید بگڑگئی ہے اور وہ نجی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
دوسری طرف الطاف حسین نے جلد ہی تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کرنے اعلان کیا ہے۔
لندن سے جاری ہونے والے بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ یہ قدم اس لیے اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں کیونکہ ’وفاقی و صوبائی حکومتیں ، فوج ، رینجرز اور پولیس کالے قوانین کا سہارا لیکر مہاجروں کی معاشی اور جسمانی نسل کشی میں مصروف ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ لندن کی مقامی انتظامیہ سے اجازت ملتے ہی وہ بھوک ہڑتال شروع کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی موت کے بعد پارٹی کے تمام امور رابطہ کمیٹی کے ہاتھ میں ہوں گے اور یہ اس کی مرضی ہوگی کہ وہ تحریک کو جاری رکھے یا ختم کردے۔







