رینجرز کے آپریشن کے بعد کے اہم واقعات

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر، پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے فوجی قیادت اور سول انتظامیہ سے مشاورت کے بعد ستمبر 2013 میں شہر میں آپریشن شروع کیا۔
اس آپریشن کے سلسلے میں شہر میں رینجرز کو تعینات کیا گیا اور انھیں گرفتاریوں اور مشتبہ افراد کو 120 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے اختیارات حاصل ہو گئے۔
رینجرز کو یہ اختیارات انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 1997 کے تحت دیےگئے۔ ستمبر 2013 میں شروع ہونے والے اس آپریشن کی مدت میں متعدد بار توسیع کی گئی۔
اس آپریشن کے حوالے سے چند اہم عنصر مندرجہ ذیل ہیں۔
نائن زیرو پر چھاپے
کراچی میں جاری آپریشن میں اہم موڑ اس وقت آیا جب رینجرز 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا۔ اس چھاپے میں رینجرز نے وہاں سے’سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز‘ کی گرفتاری اور غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ایم کیو ایم کے مرکز پر اس کارروائی کے دوران فائرنگ سے ایم کیو ایم کا ایک کارکن بھی ہلاک ہوا اور ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپے کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں وقاص علی نامی کارکن ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
رینجرز نے جولائی 2015 میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر ایم کیو ایم کے دو عہدیداران کو حراست میں لے لیا۔
رینجرز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ رینجرز کی کارروائی کے دوران کیف الوریٰ اور قمر منصور کو گرفتار کیا گیا۔ ترجمان نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے مستقبل میں مزید گرفتاریوں کا بھی عندیہ دیا۔ ان کے مطابق یہ گرفتاریاں نفرت انگیز تقاریر کا انتظام اور سہولت فراہم کرنے پر عمل میں آئیں جن میں پاکستان رینجرز کے جوانوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔ا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت سے امداد اور تربیت
کراچی کے علاقے ملیر میں تعینات ایس ایس پی راؤ انوار نے مئی 2015 میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں متحدہ قومی موومنٹ اور ان کے قائد الطاف حسین پر بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلقات کا الزام عائد کیا تھا اور دو ملزمان طاہر عرف لمبا اور جنید کی گرفتاری ظاہر کی۔ راؤ انوار نے دونوں ملزمان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے بتاتے ہوئے ایم کیو ایم پر ملک کے خلاف سرگرمیوں کا الزام لگایا تھا۔
جون 2015 میں بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا گیا کہ مقتدر پاکستانی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر حکام نے برطانوی حکام کو بتایا ہے کہ جماعت کو بھارتی حکومت سے مالی مدد ملتی رہی ہے۔ بی بی سی کو بتایا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے یہ انکشافات باضابطہ ریکارڈ کیے گئے انٹرویوز میں کیے جو انھوں نے برطانوی حکام کو دیے تھے۔
ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکنوں نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں قائم کیمپوں سے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت بھی حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کراچی میں رینجرز
جون 2015 میں پاکستان رینجرز نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں سالانہ 230 بلین روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ شہری انفرادی طور پر اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔
رینجرز نے ان الزامات کے بعد بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور لائنز ایریا ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ پر چھاپے مارے اور بعض ملازمین کو حراست میں لیا، جس پر وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے ڈی جی رینجرز کو ایک خط تحریر کر کے یاد دہانی کرائی کہ رینجرز نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
اگلے ماہ جولائی 2015 میں رینجرز ترجمان کا کہنا تھا کہ ستمبر 2013 سے تب تک 5795 آپریشن کیے گئے ہیں جن میں دس ہزار سے زائد ملزمان گرفتار اور سات ہزار ہتھیار برآمد کیے گئے۔ بیان کے مطابق اس کے علاوہ ان کارروائیوں کے دوران 826 دہشت گرد اور 334 ٹارگٹ کلرز کو بھی گرفتار کیا گیا۔
صولت مرزا، عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ
ادھر جون 2014 میں لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما کی منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں تاہم ایم کیو ایم نے ان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین کو گرفتار نہیں کیا گیا لیکن ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ لندن پولیس الطاف حسین کو حراست میں لے کر ’انٹرویو‘ کے لیے تھانے لی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC
اس کے علاوہ جون ہی کے مہینے میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا گیا۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان ملزمان سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر انعام غنی کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحققیاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
گرفتار ہونے والے شخص محسن علی پر الزام ہے کہ وہ ان دو افراد میں شامل تھے جنھیں ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے لندن بھجوایا گیا تھا۔ مذکورہ ملزم کو برطانیہ بھیجنے کے انتظامات معظم علی نامی ملزم نے کیے تھے جو اس وقت پاکستان کے قانون نافد کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے ان میں سے دو ملزمان تک برطانوی تحقیقاتی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ کو رسائی بھی دی جبکہ ملزم محسن علی سے تفتیش کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
اس سب کے علاوہ بارہ مئی 2015 کو ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کو بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ انھیں سنہ 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
الطاف حسین کی متنازع تقاریر
یکم اگست کو الطاف حسین نے امریکہ کے شہر ڈیلاس میں ایم کیو ایم کے سالانہ کنونشن سے ٹیلی فون پرخطاب کیا تھا جس میں انھوں نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ بین الاقوامی اداروں سے کہیں کہ کراچی میں اقوام متحدہ یا نیٹو کی افواج بھیجیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے قتل عام کیا اورکون کون اس کاذمہ دارتھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل الطاف حسین نے 12 جولائی کو کراچی میں کارکنان کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب میں کہا تھا کہ ’ہم فوج کے نہیں بلکہ فوج میں موجود گندے انڈوں کے خلاف ہیں۔جنرل راحیل شریف خدارا پاکستان کو بچا لیں اورفوج سے ان گندے انڈوں کو نکالیں جنھوں نے سویلینز کی طرح کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن کی ہے۔‘ انھوں نے اپنی اسی تقریر میں ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بلال اکبر پر ایم کیو ایم کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے، کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ وائسرائے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
الطاف حسین نے الزام لگایا تھا کہ ’میجر جنرل بلال اکبر نے اپنے حلف کو توڑا ہے اس لیے وہ استعفیٰ دیدیں اور دو سال انتظارکرنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت بنا لیں۔‘
ان تقاریر کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف برطانوی حکومت کو بھیجنے کے لیے ریفرنس ملکی اور برطانوی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے الطاف حسین کی تقاریر پر برطانوی حکومت کو خط لکھا گیا تھا لیکن ایم کیو ایم کے قائد کی گذشتہ دو تقاریر میں تو تمام حدیں پار کر دی گئیں۔







