‘حکومت کے ساتھ بات چیت ایک دو روز کے لیے موخر کی ہے’

فاروق ستار مولانا فضل الرحمٰن اور وفاقی وزیر اسحاق ڈار کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ایک دو دن میں مذاکرات کا دوبارہ باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا: امین الحق

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفاروق ستار مولانا فضل الرحمٰن اور وفاقی وزیر اسحاق ڈار کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ایک دو دن میں مذاکرات کا دوبارہ باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا: امین الحق
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

متحدہ قومی موومنٹ نے کہا ہے کہ پارٹی کے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے کی وجہ سے پارٹی کے استعفوں کے معاملے پر حکومت کے ساتھ بات چیت ایک دو دن کے لیے موخر کر دی گئی ہے۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ نائن زیرو پر دن میں مذاکرات کے بعد اُسی رات اسلام آباد میں مذاکرات کا اگلہ مرحلہ طے پانا تھا لیکن رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے کے بعد اب مذاکرات ایک دو دن کے لیے آگے بڑھا دیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے فی الحال کوئی تاریخ طے نہیں پائی تاہم وہ ڈاکٹر فاروق ستار مولانا فضل الرحمٰن اور وفاقی وزیر اسحاق ڈار کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ایک دو دن میں مذاکرات کا دوبارہ باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔

امین الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وسیع تر مفاد اور پارلیمان کی بالادستی اور جمہوری عمل کے تسلسل کی خاطر بات چیت مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور امید ہے کہ ایم کیو ایم کے تحفظات کو دور کر دیا جائے تو مثبت نتیجہ سامنے آئے گا۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کو ایم کیو ایم سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ کیا، تاہم ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ کراچی میں اس کے کارکنوں کی بلاجوازگرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا کو بتایا کہ بظاہر ایسی کوئی مشکل چیز نظر نہیں آ رہی جسے حل نہ کیا جا سکے اور وزیر اعظم بھی اس معاملے میں پوری دلچسپی لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہو گا۔

ادھر ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کے بعد بھی منگل کو کراچی کے مختلف علاقوں سے پارٹی کے کم سے کم پانچ کارکنوں اور ذمہ داروں کا حراست میں لیا گیا ہے جبکہ منگل کو ہی اورنگی ٹاؤن میں کالعدم تنظیم کے مسلح افراد نے ایم کیو ایم کے سرکل انچارج عبدالرحیم کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کی جانب سے منگل کو کراچی میں نائن زیرو جا کر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے جس میں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کی جانب سے منگل کو کراچی میں نائن زیرو جا کر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے جس میں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا

ایم کیو ایم نے کراچی میں رینجرز کی نگرانی میں جاری آپریشن پر پچھلے ہفتے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان اور سندھ اسمبلی کی نشستوں سے استعفے دے دیے تھے جو اب تک زیرالتوا ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت کی جانب سے منگل کو کراچی میں نائن زیرو جاکر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے جس میں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس موقعے پر مولانا نے کہا کہ ہر پارٹی کو حق حاصل ہے کہ وہ تحفظات سامنے لائے اور حکومت سے انھیں دور کرنے کا مطالبہ کرے اور ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا: ’آپریشن رینجرز کرے یا فوج، اسے حکومت ہی کنٹرول کرتی ہے۔ آپریشن پر تو ایم کیو ایم کو بھی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر انھیں اس بات پر تحفظ ہے کہ فلاں جگہ بے انصافی ہوگئی یا جانبدارانہ کردار سامنے آ گیا تو اسے جانچنا ہے اور اس کا ازالہ کرنا ہے۔‘

ایم کیو ایم کا مطالبہ ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی بنائی جائے اور اس کے 40 سے زیادہ کارکنوں کی مبینہ طور پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے۔

مولانا کا کہنا تھا: ’بظاہر مجھے ایسی نگراں کمیٹی کے قیام میں کوئی اصولی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی مگر یہ دیکھا جائے گا کہ اس کی کتنی ضرورت ہے اور اس کی حدود کیا ہونی چاہییں۔‘

مولانا کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنما رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے کے باعث پیدا ہونے والے ماحول کی وجہ سے وہ کئی باتیں ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں کر سکے۔

’کچھ باتیں ایسی ہیں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو میں اس کا اظہار بھی کرتا اور منوانے کی کوشش بھی کرتا مگر اس واقعے کی وجہ سے میں کئی باتوں کا اظہار نہ کر سکا جو مجھے ان سےکہنی تھیں۔‘