’کچھ کارکن انڈیا ضرور گئے لیکن اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں‘

پاکستانی کے فوجی حکام کے خلاف تقریر کرنے پر الطاف حسین کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی کے فوجی حکام کے خلاف تقریر کرنے پر الطاف حسین کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی ہے

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی ہے کہ جیسے ناراض بلوچوں کے لیے معافی کا اعلان کیا گیا اسی طرح ماضی کی باتوں کو نظر انداز کر کے مہاجروں کے زخموں پر بھی مرہم رکھا جائے اور انھیں قومی دھارے سے باہر نہ نکالا جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ ملک کے مفاد میں طاقت اور جذبات کے بجائے حقائق کی روشنی میں تمام معاملات کا جائزہ لیا جائے۔

<link type="page"><caption> ’ایم کیو ایم کو بھارتی حکومت سے مالی مدد ملتی رہی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150624_mqm_obj_report_zs" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’گرفتار ایم کیو ایم کارکنوں کو ’را‘نے تربیت فراہم کی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/04/150430_karachi_mqm_arrests_sh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی‘، متحدہ کی تردید</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150831_altaf_hussain_speech_ban_hk" platform="highweb"/></link>

بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’رابطہ کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ وطن عزیز کے مفاد میں طاقت اور جذبات کے بجائے حقائق کی روشنی میں تمام معاملات کا جائزہ لے۔ آج جس طرح ریاست سے ناراض بلوچوں کے لیے معافی کا اعلان کیا جا رہا ہے، جوکہ ایک انتہائی مستحسن اقدام ہے، اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ماضی کی تلخ باتوں کو نظرانداز کر کے مہاجروں کے زخموں پر بھی مرہم رکھے اور انھیں قومی دھارے سے باہر نکالنے کا عمل نہ کرے۔‘

ایم کیو ایم کے بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلقات میں گذشتہ کچھ عرصے سے آنے والی خبروں کے تناظر میں ایم کیو ایم نے اپنے بیان 1992 میں کراچی میں ہونے والے آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن ایم کیو ایم کے خلاف ہوا اور اس دوران ہونے والی ناانصافیوں کی تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

کراچی میں رینجرز نے حالیہ ماہ میں ایم کیو ایم کے کئی کارکنوں کو شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں پکڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی میں رینجرز نے حالیہ ماہ میں ایم کیو ایم کے کئی کارکنوں کو شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں پکڑا ہے

بیان کے مطابق اس آپریشن کے دوران جس طرح ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا تو اس کے پیش نظر ہزاروں کارکنوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے جہاں مغربی ممالک کا رخ کیا تو بعض کارکنوں کو کہیں اور جانے کا موقع نہیں ملا تو انھوں نے بھارت کا رخ کیا۔

<link type="page"><caption> بیان میں اپنے کارکنوں کے بھارت جانے کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھارت سمیت دیگر ممالک جانے والوں نے نہ تو ایم کیو ایم کے مرکز سے اجازت لی اور نہ ہی اس عمل کو ایم کیو ایم کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بھارت جانے والے افراد سے منسوب کردہ تربیت وغیرہ کے معاملات کا بھی ایم کیو ایم کے مرکز سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/04/150430_karachi_mqm_arrests_sh" platform="highweb"/></link>

بیان میں ایم کیو ایم کی رابط کمیٹی نے اپنے پالیسی بیان کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’ایم کیو ایم کل بھی ایک محب وطن جماعت تھی اور آج بھی ہے اور پاکستان سے اس کی وابستگی غیر مشروط طور پر ہمیشہ جاری رہے گی۔‘