’فوج کا گراف اوپر، سویلین ڈھانچہ نیچے‘

ایم کیو ایم نے وزیراعظم سے کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے حوالے سے مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا جو اب تک پورا نہیں ہو سکا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایم کیو ایم نے وزیراعظم سے کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے حوالے سے مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا جو اب تک پورا نہیں ہو سکا
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

متحدہ قومی موومنٹ ایک بار پھر اصرار کر رہی ہے کہ ان کے استعفوں کو قبول کیا جائے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اب بھی پرامید ہیں کہ وہ روٹھی ہوئی سیاسی جماعتوں کو اسمبلیوں میں واپس لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ادھر وفاقی حکومت سے نالاں جماعتوں کی فہرست میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا نام بھی شامل ہو چکا ہے۔

اپنی جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے سخت پیغام کے جواب میں وزیراعظم نے چپ سادھ رکھی ہے جبکہ قانون کہتا ہے کہ کراچی میں رینجرز کو دیے جانے والے اختیارات اراکینِ پارلیمان کی جانب سے منظور شدہ قانون کے عین مطابق ہیں پھر واویلا کیوں کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیرِ قانون خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی رنجش کی بنا پر یہ سب کیا جا رہا ہے تو غلط ہے۔ لیکن اگر کسی کے جرم کی نشاندہی ہو رہی ہے اور ثبوت موجود ہیں تو پھر تو یہ قانون کے مطابق ہے۔

انھوں نے کہا کہ قانون بنانے والے نابالغ تو نہیں تھے، انھیں معلوم تھا کہ یہ ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

’انھوں نے ازخود حملہ کر کے قبضہ نہیں کیا، نواز شریف کی حکومت نے خود انھیں اپنے اختیارات تفویض کیے ہیں، اب یہ ہو سکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ انھیں منع کریں اور کہیں کہ ہم واپس لے رہے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کہہ رہے۔‘

اے این پی کے رہنما حاجی عدیل کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا استعفوں پر اصرار ان کے غصے کی نہیں بلکہ مایوسی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ان کی شکایات کے ازالے کے لیے جن کمیٹیوں کے بنانے کا وعدہ کیا تھا وہ اب تک نہیں بنی ہیں۔

حاجی عدیل کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اختیارات دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے دیے تھے نہ کہ صوبوں میں مداخلت کرنے کے لیے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید وزیراعظم حسبِ معمول بےاختیار ہیں اور وفاقی حکومت اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کو بچا رہی ہے جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پنجاب میں احتساب نہیں ہو رہا۔

’ایجنڈے کی بو‘

وزیراعظم کیا واقعی بے اختیار ہیں اور موجودہ صورت حال میں جمہوری نظام کے لیے کوئی خطرے کا پیغام تو نہیں؟

اینکر پرسن نسیم زہرہ سمجھتی ہیں کہ احتساب کے لیے رائج طریقہ کار شاید ناکام ہوگیا ہے اور موجودہ طریقہ سندھ سے نکل کر پنجاب تک ضرور پہنچے گا تاہم اس سے نظام کو لپیٹ دیے جانے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔

تاہم وہ کہتی ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز کی کارروائیوں کے حوالے سے یہ بھی سوال ہے کہ ’کیا آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کا یہ پروپیگنڈا آگے بڑھے گا کہ ان کے خلاف ظلم ہو رہا ہے یا پھر مقدمات کو حقائق اور میرٹ پر دیکھا جائے گا؟‘

جون میں جب سابق صدر نے فوج پر تنقیدی بیان دیا تو اس کے بعد وزیراعظم نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجون میں جب سابق صدر نے فوج پر تنقیدی بیان دیا تو اس کے بعد وزیراعظم نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا

سینیئر کالم نگار ایم ضیاالدین کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کی شکایات اپنی جگہ لیکن وزیراعظم درست طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے ایم کیو ایم کو مستعفی ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سابق صدر کے بیان پر سخت جواب نہ دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے نظام کو کوئی نقصان پہنچے۔

مگر ملک کی سیاسی صورت حال اور سول ملٹری تعلقات پر نظر رکھنے والوں میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو اس خدشے کا شکار ہیں کہ احتساب کے نام پر شروع ہونے والی یہ کارروائیاں جمہوری نظام کو کسی بند گلی تک بھی پہنچا سکتی ہیں۔

تجزیہ نگار عارف نظامی کہتے ہیں کہ بظاہر براہ راست فوجی مداخلت دکھائی نہیں دے رہی تاہم اس وقت انڈر لائن سٹوری تو یہی ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو سویلین سیٹ اپ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

کراچی آپریشن میں جب رینجرز کو مرکزی کردار دیا گیا تھا تو ساتھ میں انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 1997 کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو 90 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے اختیارات بھی دیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی آپریشن میں جب رینجرز کو مرکزی کردار دیا گیا تھا تو ساتھ میں انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 1997 کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو 90 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے اختیارات بھی دیے گئے تھے

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بھی حقیقت ہے کہ سویلین معاملات میں فوج اور ایجنسیوں کا جو عمل دخل ہے، چاہے وہ ضربِ عضب کے حوالے سے ہو دہشت گردی کے حوالے سے یا خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہو، دھرنے کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کا نام لیا گیا۔ اس سے تو لگتا ہے کہ فوج پسِ پردہ معاملات میں دلچسپی رکھتی ہے۔‘

عارف نظامی کہتے ہیں کہ اس وقت جو بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ سیاسی انتقام ہی دکھائی دے رہی ہیں اور پاکستان میں ہمیشہ فوجی مداخلت کا جواز بدعنوانی ہی کو بنایا جاتا رہا ہے۔

’20 سال پرانے کیس بھی کھول لیں، 25 سال پرانے بھی کھول لیں یہ بھی ہے، اس میں کسی ایجنڈے کی بُو نظر آتی ہے۔‘

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت ملک میں حکومت سے زیادہ فوج کا بول بالا ہے۔

تجزیہ نگار ایم ضیاالدین کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس وقت ملک میں غیر معمولی صورت حال ہے۔ ایک جانب ضربِ عضب ہے اور دوسری جانب کراچی میں رینجرز کے اختیارات ہیں۔

’ ضربِ عضب جاری ہے فوج کا بالاتر کردار ہے اور جب وہ کردار ادا کرتی ہے تو پھر ایسے لگتا ہے کہ سویلین حکومت سے زیادہ ان کی پالیسی نظر آتی ہے۔‘

سینیئر کالم نگار ایاز امیر کہتے ہیں کہ ’فوج کا گراف بہت اوپر ہوگیا ہے، سویلین ڈھانچہ بہت ہی نیچے ہوگیا ہے، لیکن عملاً طاقت کہیں اور چلی گئی ہے، آپ کو سیاسی قیادت کے منھ پر ایک غم کی کیفیت دکھائی دے گی، جیسے گہرے بادل چھا گئے ہیں۔‘

تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ موجودہ صورت حال کا کیا نتیجہ نکلے گا، لیکن پاکستان میں فوج اور سویلین تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی جمہوری حکومت کی ساکھ کو نقصان ہوا ہے فوج کو ہی فائدہ ہوتا ہے اور موجودہ صورت حال میں یہ حقیقت ہے کہ جمہوری حکومت انحطاط کا شکار ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کی اپنی سیاست ان کے گلے پڑ سکتی ہے۔ کراچی میں کارروائی پر وہ خاموش رہے لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جب یہ دونوں جماعتیں ان کا ساتھ چھوڑ دیں گی تو وہ کمزور ہو جائیں گے۔

’فوج کو آپ ہر جگہ بلائیں گے تو اس کا مطلب سول حکومت کی ناکامی ہی ہے۔ کراچی ڈیل کرنے میں آپ فوج بلا لیتے ہیں، سیلاب آتا ہے تو آپ فوج بلا لیتے ہیں، اسلام آباد میں کچھ ضرورت پڑتی ہے تو آپ فوج کو بلا لیتے ہیں۔ تو اگر آپ نے جو کام سول حکومت کو کرنے چاہیں وہ فوج سے کروائیں گے تو آپ فوج کو جگہ دے رہے ہیں۔‘