کراچی میں پولیو مہم کے دوران سال کے پہلے کیس کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ سے چار روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے۔ تاہم اسی مہم کے دوران رواں سال کراچی سے پولیو کا پہلا کیس منظرِ عام پر آیا ہے۔
حکومتی معاون کار برائےانسداد پولیو ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ ’پولیو کا یہ نیا کیس کراچی کے علاقے گلبرگ ٹاؤن کی رہائشی ایک 18 ماہ کی بچی میں پایاگیا ہے۔‘
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کراچی میں گڈاپ، بلدیہ اورگلشن اقبال ٹاؤن تین ایسے علاقے ہیں جہاں پولیو وائرس کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ گلبرگ ٹاؤن کے جس علاقے سے پولیو کا تازہ کیس سامنے آیا ہے وہ گڈاپ ٹاؤن سے ملحق ہے۔
ڈاکٹرصفدرنے بتایا کہ ’اس علاقے سےگزرنے والی ایک ندی سے پولیو وائرس کے مثبت نمونے مل رہے تھے جس کی وجہ سے پولیو کے کیس آنے کا خدشہ موجود تھا۔‘
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے انکاری خاندانوں کی تعداد سنہ 2014 میں 0.3 فی صد تھی جو 2015 میں کم ہوکر 0.1 فی صد پر آگئی ہے اور ستمبرمیں چلائی گئی حالیہ مہم کے بعد یہ شرح مزید گھٹ کر نصف رہ گئی ہے۔
تاہم ڈاکٹر صفدر بتاتے ہیں کہ کراچی میں پولیو سے متاثرہ بچی کا تعلق محسود خاندان سے ہے جو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکاری تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان کچھ عرصے پہلے ہی شمالی وزیرستان سے کراچی منتقل ہوا اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب ویکسین دینے کے لیے ٹیمیں آیا کرتی تھیں تو وہ بچی کو چھپا لیا کرتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال 80 سے 85 فی صد پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔اس کے علاوہ گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال پانی میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
حکومت کی جانب سے اس صورتحال کو باعث اطمینان پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
’پاکستان میں اس سال پولیو کے 38 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ گذشتہ برس اسی عرصے تک یہ تعداد سوا دو سو سے زیادہ ہو چکی تھی۔‘







