’کم عمر کی پھانسی‘ پر یورپی یونین کا اظہارِ تشویش

انصر اقبال کے ورثا اور وکیل کا کہنا تھا کہ جرم کے وقت ان کی عمر 15 برس تھی
،تصویر کا کیپشنانصر اقبال کے ورثا اور وکیل کا کہنا تھا کہ جرم کے وقت ان کی عمر 15 برس تھی
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی جیل میں قتل کے مجرم انصر اقبال کو پھانسی دیے جانے پر یورپی یونین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انصر اقبال کے ورثا اور وکیل کا کہنا تھا کہ جرم کے وقت ان کی عمر 15 برس تھی اس لیے انھوں نے ان کی سزائے موت ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔

پاکستان میں یورپی یونین کے مشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس پھانسی سے پاکستان میں مبینہ طور پر کم عمری میں کیے جانے والے جرائم پر موت کی سزا دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔‘

<link type="page"><caption> ’15سال کی عمر میں قتل کے جرم میں پھانسی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150929_sargodha_juvenile_hanging_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاکستان میں سزائے موت کے پسِ پردہ انسانی المیہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150804_capital_punishment_amnesty_column_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پھانسی سے جرائم کے خاتمے کی سوچ کامیاب ہوگی؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150807_pak_hanging_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے مبینہ طور پر جرم کے وقت انصر اقبال کی عمر کے متعلق نئے شواہد پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یورپی یونین کے وفد نے کہا ہے کہ 18 برس سے کم عمر افراد کے ہاتھوں ہونے والے جرائم پر موت کی سزا دینا نہ صرف پاکستان کے قوانین کے خلاف ہے بلکہ سول اور سیاسی حقوق کے متعلق بین الاقوامی قانون اور بچوں کے حقوق کے متعلق عالمی کنوینشن کے بھی خلاف ہے جس پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں۔

یورپی یونین نے زور دیا ہے کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی سزا یافتہ شخص کی عمر کے متعلق بیانات کو جامع اور غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے جانچا جائے اور اسکے متعلق تمام شواہد کا جائزہ لیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین تمام مقدمات میں موت کی سزا کے خلاف ہے اور وہ مسلسل اس کی عالمی اہمیت پر زور دیتا رہی ہے۔

یورپی یونین نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی عالمی ذمہ داریوں کا احترام کرے، پھانسیوں پر عائد پابندی بحال کرے اور پہلے مرحلے میں موت کی سزا پانے والے تمام قیدیوں کو عمر قید میں تبدیل کرے۔

پاکستان نے گذشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملے کے بعد پھانسیوں پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔ پہلے مرحلے میں یہ پابندی صرف دہشت گردی کے مقدموں میں موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے لیے ختم کی گئی تھی مگر بعد میں اسے مکمل طور پر ہٹا لیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ پچھلے نو ماہ میں پھانسی پانے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جنھیں دہشت گردی کے بجائے دوسرے مقدموں میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔