قواعد خاموش، معذور قیدی کی پھانسی ملتوی

جیل حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ عبدالباسط کو ویل چیئر پر ہی پھانسی گھاٹ تک لے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجیل حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ عبدالباسط کو ویل چیئر پر ہی پھانسی گھاٹ تک لے جائیں گے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی جیل میں موجود معذور قیدی عبدالباسط کی پھانسی پرعمل درآمد فی الحال روک دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چلنے پھرنے سے قاصر سزائے موت کے قیدی عبدالباسط کو آج یعنی منگل کی صبح پھانسی دی جانی تھی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سیشن کورٹ فیصل آباد کے میجسٹریٹ دلشاد ملک نے بتایا کہ ’معذور شخص کو پھانسی دیے جانے پر رولز خاموش ہیں۔ پھانسی دینے کے لیے قیدی کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہونا چاہیے تاہم عبدالباسط معذور ہیں، اس لیے ان کی پھانسی کو عارضی طور پر ملتوی کرتے ہوئے حکومت سے رائے لی جائے گی۔‘

میجسٹریٹ دلشاد ملک نے بتایا کہ ممکنہ طور پر جیل سپرنٹینڈنٹ آئی جی جیل خانہ جات سے رابطہ کریں گے اور پھر ہوم سیکریٹری تک معاملے کو پہنچایا جائے گا تاکہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کے معاملے کو حل کیا جا سکے اور طریقہ کار معلوم کیا جا سکے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عبدالباسط کی بہن شگفتہ سلطانہ نے بتایا ہے کہ انھیں ان کے بھائی کی پھانسی کی التوا کی خبر اس وقت دی گئی جب وہ منگل کی صبح جیل کے باہر انتظار کر رہی تھیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے عبدالباسط کی سزا پر عمل درآمد روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

43 سالہ عبدالباسط کو 2009 میں گھریلو تنازعے پر ایک شخص آصف ندیم کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ فیصل آباد کی ایک عدالت نے انھیں 29 جولائی کو پھانسی دینے کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے۔

مجرم کے وکلا کا موقف ہے ملکی قانون کے کسی مطابق معذور شخص کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے معذور قیدی عبدالباسط کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کی اپیل کی ہے۔