پھانسی سے جرائم کے خاتمے کی سوچ کامیاب ہوگی؟

خصر حیات کو اپنے ساتھی کو قتل کرنے کے جرم میں سنہ 2003 میں سزا سنائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنخصر حیات کو اپنے ساتھی کو قتل کرنے کے جرم میں سنہ 2003 میں سزا سنائی گئی تھی
    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستانی جیل میں پھانسی کی سزا کے منتظر خضر حیات دورانِ قید ذہنی مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اب اپنی والدہ تک کو پہچاننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

سابق پولیس اہلکار خضر 17 برس سے جیل میں ہیں اور انھیں قتل کے ایک مقدمے میں سنہ 2003 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ان کی والدہ دو مرتبہ اپنے بیٹے کے کفن دفن کا انتظام کر چکی ہیں لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کی درخواستوں کے بعد انھیں دو مرتبہ تختہ دار سے واپس لایا جا چکا ہے۔

خضر کے ڈاکٹر عثمان امین نے بی بی سی کو بتایا کہ خضر گذشتہ آٹھ برس سے شیزوفرینیا کے ذہنی مرض میں مبتلا ہیں اور اب ادویات کا بھی خضر پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہو رہا۔

خضر کی والدہ اقبال بانو کا کہنا ہے: ’نہ وہ مجھے پہچان سکتا ہے اور نہ ہی اپنی تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو۔‘

صرف بیٹے کی دوری ہی نہیں بلکہ اس کی ذہنی حالت اقبال بانو کو مزید تکلیف پہنچاتی ہے۔

انھوں نے بتایا: ’جب میں پھانسی سے پہلے اسے ملنے گئی تو وہ سمجھ رہا تھا کہ اسے رہا کر دیا گیا ہے۔ وہ خوش تھا لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ مجھ سے لڑنا شروع ہو گیا کہ میں اسے یہاں سے باہر لے کر کیوں نہیں جا رہی؟ وہ کہنے لگا میں نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر اسے یہاں بند کیا ہے اور میں اس کی جان لینا چاہتی ہوں۔‘

صحت کی بنیاد پر بیٹے کی رہائی کی کوششوں نے بیوہ ماں کے چہرے پر پڑنے والی جھریوں میں اضافہ کر دیا ہے اور صدر سے رحم کی اپیل کے علاوہ ان کے پاس اب کوئی راستہ نہیں ہے۔

خضر کی موت کی سزا ان متنازع مقدمات میں سے ہے جس نے جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان کو یاد دلائیں کہ وہ معذور قیدیوں کے حقوق سے متعلق عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، وہیں محض گذشتہ چھ ماہ میں پاکستان کی جانب سے 200 کے قریب مجرموں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی تعداد پر حکومت کو عالمی تنقید کا بھی سامنا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ سزائے موت پر پابندی ہٹنے سے نہ صرف دہشت گرد حملوں میں بلکہ دیگر جرائم میں بھی کمی آئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی مشیر اشتر اوصاف نے کہا کہ ’16 دسمبر کو سکول پر حملے کے بعد لوگوں میں ہیجان کی کیفیت پیدا ہو گئی، اور اب جب لوگوں کو وہ سزائیں ملنی شروع ہوئی ہیں جن کا تعین عدالتوں نے کیا ہے اور صدر پاکستان نے بھی اس کی تائید کی، تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ نہ صرف دہشت گرد حملوں میں بلکہ دیگر جرائم میں بھی کمی آئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھاکہ ’سزائے موت کا قانون ہونے کے باوجود اتنے عرصے سے سزاؤں کو لٹکایا جا رہا تھا اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔‘

مگر بیشتر ماہرین حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھانسی کی سزا دینے سے امن و امان یا جرائم کا خاتمہ کرنے کی سوچ ناکام ثابت ہوئی ہے۔

دنیا کے 130 سے زیادہ مملک نے جزوی یا مکمل طور پر پھانسی کی سزا کا قانون خارج کر دیا ہے۔ ایسا ان تحقیقات کے پیشِ نظر کیا گیا جن میں میں ثابت ہوا ہے کہ پھانسی سے ڈرا کر جرم میں کمی لانے کا نظام ناقص ہے۔

تاہم حکومتِ پاکستان نے سکیورٹی اور امن و امان کی غیر معمولی صورت حال کے پیش نظر دیگر اقدامات سمیت سزائے موت پر لگی سات سالہ پابندی ختم کر دی ہے۔

کیا دوسروں کی جان لینے کے لیے اپنی جان دینے والے انتہاپسند یا دیگر مجرم تختہ دار پر لٹکانے سے ڈر سکتے ہیں؟

اس بارے میں سندھ کے سابق آئی جی شعیب سڈل کہتے ہیں کہ ’انتہاپسند جنھیں یہ پڑھایا گیا ہو کہ وہ لوگوں کو مارنے سے جنت میں جائیں گئے تو وہ تو ’جنت‘ میں جا رہے ہیں، انھیں کیا ڈر؟‘

انھوں نے بتایا کہ ’انہوں نے ایسی ویڈیوز خود دیکھی ہیں جن میں مجرم لوگوں کو مارنے سے پہلے یہ بیان کر رہا ہے کہ وہ کتنا خوش ہے کہ اسے جنت ملنے والی ہے اور وہ حوروں کے پاس جا رہا ہے۔‘

شعیب سڈل کا مزید کہنا تھا کہ ’دنیا میں ہونے والی زیادہ تر تحقیقات سے یہی پتہ چلا ہے کہ جرائم میں کمی لانے کا پھانسی کی سزا سے گہرا تعلق نہیں ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تعین کیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف اسلام آباد کے تھانوں میں سزائے موت کی مختلف دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ برس 2015 کے پہلے چھ ماہ میں ایسے مقدمات کی تعداد 150 سے زیادہ رہی جبکہ پھانسی سے پابندی ہٹنے کے بعد یعنی 2015 کے پہلے چھ ماہ میں ان مقدمات کی تعداد 190 سے بھی زیادہ ہے۔

بظاہر پاکستانی عوام میں سزائے موت پر سے حکومتی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ خاصا مقبول ہے۔

16 دسبمر کے سکول حملے میں 123 سے زیادہ بچوں کی ہلاکت کے بعد عوام بہت غصے میں تھے جس کے نتیجے میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد پر عائد عارضی پابندی ختم کرنے جیسے اقدامات کیے گئے۔

تاہم بعض ماہرین کے بقول سزائے موت دینے سے پاکستانی حکمران عوام میں یہ تاثر تو پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ جرائم کے خلاف سختی سے پیش آ رہے ہیں مگر عوام کے تحفظ کے لیے دیر پا حل ( یعنی پولیس یا عدلیہ کے نظام میں بہتری کی اصلاحات) کو تلاش کرنے کی کٹھن راہ پر چلے بغیر امن لانا مشکل ہے۔