لاہور میں ایک ’ذہنی مریض‘ کے ڈیتھ وارنٹ جاری

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں حکومت نے ماہِ رمضان کے بعد ملک میں سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ بحال کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
اس سلسلے میں لاہور کی ایک عدالت نے قتل کے ایک مجرم خضر حیات کو 28 جولائی کو پھانسی دینے کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیا ہے تاہم سزائے موت کے بعض دیگر فیصلوں کی طرح یہ مقدمہ بھی متنازع بن گیا ہے۔
مجرم کے وکلاء کا موقف ہے کہ وہ ایک ذہنی مریض ہے اور پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی ذہنی مریض کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
حقوقِ انسانی کے امریکی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے حکومتِ پاکستان سے خضر کی پھانسی روکے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ذہنی مریض کو سزائے موت دیا جانا ’وحشیانہ‘ اقدام ہوگا اور اسس سے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی بھی ہوگی۔
خضر حیات کی سزا پر عمل درآمد کے لیے اس سے قبل 16 جون کی تاریخ دی گئی تھی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے ایک روز قبل اسے وقتی طور پر روک دیا تھا۔ اب انھیں دوبارہ سزائے موت کا سامنا ہے اور ان کے اہل خانہ ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آ کر انہیں بچانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔
خضر حیات کو اپنے ہی ایک ساتھی پولیس اہلکار کے قتل پر سنہ 2003 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ سزا پر عمل درآمد کے انتظار میں 12 سال سے زیادہ کا عرصہ قید میں گزار چکے ہیں۔
اس دوران اس کے وکلاء اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ذہنی توازن بھی کھو چکے ہیں۔
جیل حکام نے انھیں 2008 میں ’پیرانوائڈ سکٹزوفرینیا‘ کا مریض قرار دے دیا تھا۔ اس وقت کے بعد سے ڈاکٹر انھیں طاقتور ادویات دے رہے ہیں اور ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے علاوہ خضر کا کوئی دوسرا علاج نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے شہاب صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت خضر کو سزائے موت دینا غیرقانونی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
’خضر حیات ذہنی مریض ہے اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سال ہا سال کی تکلیف برادشت کرچکا ہے۔ اس کی جگہ کسی ذہنی امراض کے علاج کے مرکز میں ہے ناکہ جیل میں۔‘
خضر کے طبی ریکارڈ کے مطابق اس پر ذہنی مرض کے اثرات فروری 2008 سے ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے۔ اس ذہنی حالت کی وجہ سے وہ ساتھی قیدیوں کے تشدد کا شکار بھی ہوئے اور ایک بار تو ان پر اس بری طرح سے تشدد کیا گیا کہ سر پر آنے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔
اس وقت ان کا پوسٹ مارٹم کا حکم بھی یہ سمجھتے ہوئے دے دیا گیا کہ شاید وہ مر چکے ہیں۔
اس کے بعد سے انہوں نے اکثر وقت اپنے آپ اور ساتھی قیدیوں سے بچانے کی خاطر قید تنہائی میں گزارے اور پھر 2012 میں حالت مزید خراب ہونے پر انھیں مستقل طور پر جیل کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے گذشتہ سال 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عائد سات سالہ غیر اعلانیہ پابندی ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔
ابتدائی طور پر یہ پابندی صرف ان مجرموں کی سزائے موت پر سے اٹھائی گئی تھی جنھیں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے یہ سزا سنائی گئی تھی تاہم بعد میں تمام پھانسیوں کی سزاؤں سے یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی۔
پابندی کے خاتمے کے بعد سے پاکستان میں 170 سے زیادہ افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے اور اس پر حقوقِ انسانی کی مقامی اور عالمی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت کل 8500 کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں اور ان میں سے کئی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سزا پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔







