ایم کیو ایم کی وکالت پر عاصمہ جہانگیر کے خلاف احتجاج

وکلا نے احتجاجی مظاہرے کے دوران دونوں وکلا کے خلاف نعرے بازی کی اور پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوکلا نے احتجاجی مظاہرے کے دوران دونوں وکلا کے خلاف نعرے بازی کی اور پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے
    • مصنف, عدیل اکرم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں وکلا نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے ذرائع ابلاغ پر بائیکاٹ سے متعلق کیس لڑنے پر ماہر قانون عاصمہ جہانگیر اور سابق سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ہونے والے مظاہرے میں وکلا نے الزام لگایا کہ عدلیہ بحالی کی تحریک کے دوران کراچی میں وکلا کو ہلاک کیا گیا تھا جس میں متحدہ قومی موومنٹ ملوث تھی۔

اِحتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے والے ایڈوکیٹ آفتاب ورک نے کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر الطاف حسین کی وکالت کر کے 12 مئی 2007 کو ہلاک کیے جانے والے وکلا کے اہل خانہ کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں۔

آفتاب ورک نے مطالبہ کیا کہ وکلا کے ساتھ غداری کرنے پر وکلا تنظیمیں عاصمہ جہانگیر اور خالد رانجھا کے خلاف کارروائی کریں اور بار رومز میں اُن کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔

وکلا نے احتجاجی مظاہرے کے دوران دونوں وکلا کے خلاف نعرے بازی کی اور پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنے خلاف ہونے والے مظاہروں پر ردعمل میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو کوئی با اثر وکیل کرنے سے روکنے پر پنجاب سے تعصب کاتاثر جائے گا ’جس کے حق میں ہم نہیں ہیں۔‘

’اگر الطاف حسین نے کوئی غلط کام کیا ہے تو ان کے خلاف مقدمہ قائم کریں جس میں میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی، مئی مںی جو کچھ وکلیوں کے ساتھ ہوا۔ لیکن بولنے کا حق تو انھیں (ایم کیو ایم ) کو حاصل ہے۔‘

یاد رہے کہ رواں ماہ لاہور ہائی کورٹ نے فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان دینے پر الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

ایم کیو ایم نے الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی کے فیصلے کو جانبدرانہ اور امتیازی قرار دیا تھا۔