’فوج اور راحیل شریف ہر مسئلے کا حل‘

،تصویر کا ذریعہispr
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’مجھے لگتا ہے کہ اگر پاکستان کی باگ ڈور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سنبھال لیں تو پاکستان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں‘ یہ کہنا ہے اسلام آباد کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری عاطف ملک کا۔
یہ رائے رکھنے والے عاطف ملک تنہا نہیں ہیں بلکہ ملک کے شہروں اور دیہاتوں اور گلی کوچوں میں ہر شخص ہی راحیل شریف کا گرویدا نظر آتا ہے اور ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتا۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے عوام کے دلوں میں جو جگہ بنالی ہے وہ بے مثال ہے۔ بیشتر پاکستانی شہری انھیں ملک چلانے کے لیے سیاست دانوں کے مقابلے میں بہتر آپشن قرار دے رہے ہیں۔
نہ صرف شہری بلکہ ملک کے نامور آرٹسٹ بھی پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی حمایت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی گیشدگی کے سلسلے میں ہونے والی بیان بازی میں کود پڑے ہیں۔
تاہم بیشتر شہریوں کے ذہنوں پر یہ نقش ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی مسائل کا حل بھی ملک کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ہی دے سکتے ہیں۔
35 سالہ بینکر متین کا کہنا ہے ’جیسے دہشت گرد حملے کم ہوئے ہیں اسی طرح جنرل راحیل شریف پاکستان کی سیاست کو بھی بدعنوانی سے پاک کر دیں گے۔ سیاستدان چور ہیں صرف پاک فوج دیانت دار ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
نہ صرف بیشتر شہری ، مقامی میڈیا اور حکومتی اہلکار بھی اپنی افواج کی محبت سے سرشار ہیں۔
جہاں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے میں فوج کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے وہیں ماضی کی یہ راگنی بھی پورے زور شور سے الاپی جا رہی ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے بہتر فوج ہی سوچ سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے یومِ دفاع پاکستان کے موقع پر جارحانہ تقاریر کیں۔
انھوں نے پاکستان کے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ملک کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے سکیورٹی صورتِ حال سے لے کر ملک کی خارجہ پالسی پر بھی تفصیلی بات کی۔
پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی نسبت عوام موجودہ سربراہ جنرل راحیل شریف کو اپنے ٹی وی پر کہیں زیادہ دیکھ پاتی ہے۔
اس کی وجہ بتاتے ہوئے ’پاکستان ٹوڈے‘ کے مدیر عارف نظامی نے کہا ’جنرل کیانی بھی اپنے دور میں سیاست دانوں سے اپنی باتیں منوا لیتے تھے یہاں تک کہ ریٹارمنٹ کی مدت میں بھی توسیع کروا لی مگر ان کے دور میں پاکستانی فوج کا امیج مختلف وجوہات کی وجہ سے خراب ہوا اور اب فوج اپنے امیج کو بظاہر ٹھیک کرنے کی کوشش میں نظر آتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’اب سیاسی اور ملٹری شراکت داری پہلی مرتبہ ایپکس کمیٹی کے قیام کی صورت میں باقاعدہ ادارے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔‘
اس سلسلے میں انھوں نے مزید کہا ’ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے پاکستانی فوج اب اپنا موقف، اپنی پالیسی کے حصول کے لیے زیادہ احسن طریقے سے عوام پر واضح کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ وہ سیاست دانوں سے کافی آگے نکل گئے ہیں اور اگر مقبولیت کے گراف کا نظام ہو تو شاید جنرل راحیل شریف کا گراف خاصہ اونچا نظر آئے۔‘
یوم دفاع کے موقع پر فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا۔
اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیلی ٹائمز کے مدیر راشد رحمان نے کہا ’مقامی میڈیا فوج کا امیج بہتر بنانے میں خود ایک فریق بن چکا ہے۔ جس طرح کی پروموشن فوج کی ہی نہیں جنرل راحیل شریف کی ٹی وی پر ہو رہی ہے، اگر ہم اپنی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو میری رائے میں یہ کافی خطرناک معاملہ ہے۔‘

اس کی تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’جمہوریت اور فوج کا راستہ ہمیشہ متضاد رہا ہے اور اس طرح کی صورتِ حال پیدا کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ منتخب سیاسی حکومتیں بے کار ہیں اور پھر سے ایک فوجی قیادت آئے لیکن پاکستان کی تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ایسا کرنے سے ملک کو نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہی ہوا ہے۔‘
پاکستان فوج کی جانب سے ملک کی سیاسی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے ماضی میں بیشتر ناکام اور تین کامیاب کوشیش کی گئیں۔
68 سالہ پاکستانی تاریخ میں30 برس سے زیادہ عرصے سے فوج اقتدار پر براجمان ہے۔
بعض ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے اگر زیادہ نہیں تو اتنا ہی نقصان پاکستان کی معیشت اور سکیورٹی کو پہنچایا ہے جتنا سیاست دانوں نے، مگر عوام کی سیاسی رائے کو بڑی حد تک ترتیب دینے کے لیے بیشتر مقامی میڈیا بظاہر ایک مخصوص پالسی کے تحت اس حقیقت کو دبانے کی کوشش میں نظر آ رہا ہے۔
پاکستان کے سیاسی نظام سے متعلق بات کرتے ہوئے عارف نظامی نے کہا ’بھارت یا افغانستان سے متعلق پالیسی پر فوج کی ان بن ہمیشہ رہی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔ ماضی میں میاں صاحب کے فوجی سربراہان کے ساتھ تعلقات گرمی سردی کا شکار رہے ہیں مگر اب ان کا تال میل کافی اچھا نظر آ رہا ہے۔ وہ ہر دوسرے دن جنرل راحیل شریف سے ملاقات کرتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر اپنی مدت مکمل کرنی ہے تو ایسے ہی کام چلے گا۔‘
راشد رحمان کہتے ہیں کہ فوج کو اب براہ راست سیاست میں آنے یا بغاوت کرنے کی ضرورت نہیں جب وہ پیچھے رہ کر ملک کا نظام چلانے کی سکت رکھتے ہیں۔‘







