حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ سے استعفوں کی واپسی کے معاملے پر مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔
منگل کی صبح حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کا وفد اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس پہنچا ہے اور اس وقت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
واضح کہ گذشتہ روز بھی ایم کیو ایم اور حکومتی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جنھیں کامیاب قرار دیا جا رہا تھا۔
گذشتہ روز ہونے والے مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومتی وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ وزیر اعظم بھی کراچی آپریشن کے بارے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام پر رضا مند ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے استعفوں پر نظرثانی کی یقین دہانی کرائی جبکہ حکومت نے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کا یقین دلایا ہے۔
اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستارنے کہا کہ ان کی جماعت کراچی آپریشن کے خلاف نہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ حکومت اس کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے کئی کارکن نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔
میڈیا سے بات چیت میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کراچی آپریشن آئینی حدود میں رہ کرنا چاہتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں فریقین نے بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا اور ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ اگر اس کے تحفظات دور کیے جائیں تو معاملہ حل ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے ارکانِ پارلیمان کراچی میں جاری آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 12 اگست کو مستعفی ہوگئے تھے۔







