دو فوجوں کے درمیان پھنسے کشمیری

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, شا ہ زیب جیلانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
کشمیر کے متنازع علاقے کی پاکستانی جانب سرحد کے قریب جنگل میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کا نام نکیال ہے۔
اس دور دراز گاؤں کے اردگرد کا منظر بڑا دلفریب اور سرسبز و شاداب ہے، لیکن یہ دلفریبی ایک دھوکہ بھی ہو سکتی ہے۔
نکیال بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع لائن آف کنٹرول سے چند سو میٹر سے زیادہ دور نہیں اور یہ وہ علاقہ ہے جہاں فوجی کارروائیوں کی کوئی کمی نہیں۔
گاؤں کے آس پاس پہاڑوں پر جا بجا فوجی چوکیاں بنی ہوئی ہیں۔
یہاں کے لوگوں کو ہر وقت اس خطرے کا سامنا رہتا ہے کہ نتائج سے بے خبر فوجی کسی بھی وقت گولیاں برسانا شروع کر سکتے ہیں۔
اس علاقے میں فوجیوں کی فائرنگ سے آخری موت آٹھ اگست کو ہوئی جب ایک چار سالہ بچے کی نوجوان ماں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
ہلاک ہونے والی خاتون کے شوہر طارق محمود کے بقول وہ لوگ گاؤں میں ایک شادی کی تقریب میں بیٹھے تھے کہ ایک گولی سیدھی آ کر ان کی بیوی کو لگی اور وہ مرگئی۔
گاؤں سے ذرا بلندی پر واقع بھارتی فوجی چوکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے طارق محمود نے مجھے بتایا کہ ’گولی اُدھر سے آئی تھی۔ یوں بھارتیوں نے ہماری خوشی کی تقریب کو ماتم میں بدل دیا۔ بالکل بلاجواز فائرنگ۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس قتل کو دو ہفتے سے زیادہ گزر چکے ہیں اور طارق کو سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر ان کا قصور کیا تھا۔ انھیں بھارت پر شدید غصہ ہے لیکن وہ پاکستان پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔
’ہم دو فوجوں کے درمیان گھِر چکے ہیں اور ہمیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ دونوں کہتے ہیں کہ وہ کشمیر کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن دونوں کو کشمیری لوگوں کی کوئی پروا نہیں۔‘
740 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب بھی ایسی ہی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
آئے روز دونوں فوجیں آپس میں فائرنگ کا تبادلہ کرتی رہتی ہیں جس میں ایک دوسرے کے علاقے میں گولے بھی برسائے جاتے ہیں۔ دونوں فریق کھلم کھلا نومبر 2003 میں طے پانے والی فائر بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر ’بلا اشتعال‘ حملوں کا الزام لگا رہے ہیں۔
گاؤں سے اوپر پہاڑوں کی جانب تقریباً دس منٹ پیدل چلنے کے بعد ہم مکئی کے کھیتوں اور تازہ پانی کی ندی کو پار کر کے ایک گھر میں پہنچے۔
یہاں ہماری ملاقات ایک ریٹائر سپاہی جاوید احمد سے ہوئی جنھوں نے ہمارے سامنے رکھی ہوئی پر میز پر چلے ہوئے مارٹر گولوں کے خول اور بھارتی بمباری کے کئی دیگر ثبوت رکھے جو ان کے بقول انھوں نے گاؤں کے ارد گرد کے علاقے سے جمع کیے تھے۔
گذشتہ برسوں میں سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں جاوید احمد کے ایک چچا مارے جا چکے ہیں جبکہ ان کے کچھ رشتہ دار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں ان کے مویشی بھی مارے جا چکے ہیں اور ان کے مکان کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
مایوسی بھرے لہجے میں جاوید احمد کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ریاستی حکومت کا کوئی نمائندہ ان کا احوال پوچھنے نہیں آیا۔
’ہمیں کبھی بھی کسی مالی معاوضے کی پیشکش نہیں ہوئی، حالانکہ ہم اس جگہ رہتے ہیں جہاں پاکستان کشمیر کے تنازعے پر بھارت کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حالیہ عرصے میں سرحد پر حملوں کا خطرہ اتنا زیادہ رہا ہے کہ سینکڑوں لوگ یہاں اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ارد گرد کے علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اگست کے وسط سے اب تک تقریباً 260 گھرانے سرحدی دیہاتوں کو چھوڑ کر نکیال کے نواح میں منتقل ہو چکے ہیں جہاں انھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چیڑ کے درختوں کے درمیان ایک عارضی کیمپ میں رہنا شروع کر دیا ہے۔
لیکن حکومتی امداد کے بغیر ان خیموں میں عالمِ کسمپرسی میں رہنا آسان نہیں۔
چار بچوں کی ماں زلیخا خاتون کے بقول: ’مارٹر گولوں کے دھماکوں نے میرے بچوں کو بہت خوفزدہ کر دیا ہے۔ نہ وہ سو سکتے ہیں نہ کھا سکتے ہیں۔ میں انھیں لے کر واپس گاؤں بھی نہیں جا سکتی۔‘
اپنی حالتِ زار سناتے ہوئے زلیخا کے آنسو بہہ رہے تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کیسے کر سکتی ہیں۔ ’ہمیں لگتا ہے کہ پاکستانی حکام ہمیں یہاں پھینک کر بھول چکے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یہ صرف زلیخا کی بات نہیں بلکہ ان دنوں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کی اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ پاکستانی ریاست انھیں فراموش کر چکی ہے۔
ذرائع ابلاغ میں اس قسم کے جذبات کی عکاسی نہ ہونے کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان میں کشمیرکے بارے میں جو بیانیہ عام ہے اس پر پاکستانی ریاست کا کنٹرول ہے۔ اس بیانیے پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے کے لیے پاکستانی ریاست آزاد صحافیوں کو اس علاقے میں جا کر خود اپنی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتی اور اگر انھیں اجازت دی جاتی ہے تو ان کے کام کو مشکل بنا دیا جاتا ہے۔
کشمیر میں جا کر رپورٹنگ کرنے والے اکثر صحافیوں کو پاکستانی فوج کی جانب سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور ہمارے دورے کے دوران ہماری ٹیم کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
لگتا ہے کہ عام لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ لائن آف کنٹرول کی اِس جانب رہنے والے لوگ کشمیر پر جاری لڑائی کی کتنی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔







