’را کی مداخلت کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں اٹھانے پر غور‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, معصومہ ملک
- عہدہ, اسلام آباد
پاکستان کے وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی ملک میں مداخلت کے معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزارتِ خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کے مختلف حصوں بالخصوص صوبہ بلوچستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے گا۔
اس سوال کے تحریری جواب میں وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ رواں برس مارچ میں اسلام آباد میں ہونے والے سیکریٹری خارجہ سطح کے اجلاس میں بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا گیا تھا۔
وزیراعظم کے مشیرِ خصوصی سرتاج عزیز نے اس ضمن میں مزید بتایا کہ خارجہ یا دیگر اعلیٰ سطح کی مختلف ملاقاتوں میں ان معاملات کا ضرور تذکرہ ہوتا ہے اور شکایات بھی کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بالخصوص بھارت تک دو طرفہ مذاکرات میں یا میڈیا کے ذریعے اپنی بات پہنچائی جاتی ہے۔
’ہندوستان سے جو بات چیت ہوتی ہے۔ ابھی بھی اِس کا ذکر ہوتا ہے کہ آپ کی طرف سے جو مداخلت ہے اس پر ہمارے تحفظات ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرز کی میٹنگ اور اس کے علاو میرے خیال میں جب وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے جائیں گے تو اس معاملے کو اٹھائیں گے۔‘
’یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ایک بار ہو یہ ایک عمل ہے جو وقتاً فوقتاً کبھی کم اور کبھی زیادہ شدت سے اٹھایا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے اسی ماہ روس کے شہر اوفا میں ہونے والی ملاقات کے دوران باہمی بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اس سلسلے میں پہلے وزیراعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کو اپنے بھارتی ہم منصب اجیت دوول سے ملاقات کے لیے دہلی آنا ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس بارے میں ابھی کوئی واضح بیان نہیں دیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ کے حالیہ الزام کے بعد بھی یہ ملاقات ہوگی یا نہیں۔
مشیرِ خصوصی نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور بھارت کے کسی بھی غلط ارادے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران مشیر خصوصی نےبتایا کہ بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے حالیہ الزام کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ان الزامات کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اس الزام کی بھرپور طریقے سے تردید کی گئی ہے اور اس موضوع پر تفصیلی بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ان کا کہنا تھا کہ ساتھ ہی یہ اعادہ کیا گیا ہے کہ ’اگر وہاں سے کوئی دھمکی یا اس قسم کا ارادہ ظاہر کیا گیا تو پاکستان کے پاس اپنے دفاع کی پوری صلاحیت ہے ۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارت کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ ریاست پنجاب کے ضلع گرداس پور میں حملہ کرنے والے شدت پسند پاکستان سے آئے تھے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گرد پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں اور ایسی الزام تراشیوں سے دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔







