پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی کوششیں

’ وزیراعظم نواز شریف نے بالکل سیدھی اور دو ٹوک بات کی‘

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن’ وزیراعظم نواز شریف نے بالکل سیدھی اور دو ٹوک بات کی‘
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن

امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر کوششیں شروع کی ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے صورت حال پر وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے منگل کو واشنگٹن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے فون پر بات کر کے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ’امریکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطےکر رہا ہے۔‘

منگل کو ہی بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو فون کر کے ماہِ رمضان کی آمد کی مبارکباد دی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کا پورے خطے کے مفادات میں اہم کردار ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کی طرف سے جو بیان بازی ہو رہی ہے اور جس سے کچھ لوگ اپنا اثر بڑھانے کی کوشش میں ہیں، اس کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ نہ ہو جائے۔

پاکستان اور بھارت کے حالیہ دنوں تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت کے حالیہ دنوں تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا: ’یہ ہمارے لیے بہت تشويشناك بات ہے اور اس کی وجہ واضح ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے بالکل سیدھی اور دو ٹوک بات کی اور کچھ ہی دیر پہلے ان کی ہندوستان کے وزیراعظم سے بات ہوئی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہندوستان اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ کشیدگی کو قابو میں رکھا جائے تاکہ معاملہ حد سے باہر نہ نکل جائے۔‘

جان کیری نے کہا ہے کہ کوشش اس بات کی ہو رہی ہے کہ تمام فریق ساتھ مل کر آنے والے دنوں اور ہفتوں میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے اور اس میں مزید اضافہ وزیراعظم مودی کے دورۂ بنگلہ دیش کے دوران بنگلہ دیش کی آزادی کے حوالے سے بیان سے ہوا۔

جس کے بعد جب بھارتی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات راجيہ وردھن سنگھ راٹھور نے برمی سرحد کے اندر بھارتی فوج کی کارروائی کو پاکستان سمیت دوسرے ممالک کے لیے پیغام قرار دیا تو صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی

نریندر مودی کی نواز شریف سے بات

ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کو ٹیلی فون کر کے رمضان کے مہینے کی آمد پر مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ اس موقعے پر بھارتی حکومت خیرسگالی کے طو رپر پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کر رہی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے اختلافات اور جنگ کی باتوں کو بھلا کر امن و استحکام کی طرف جانا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام اپنے رہنماؤں کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کریں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے ہمسائے ہونے کے ناطے مل جل کر امن سے رہنا چاہیے اور اپنے باہمی اختلافات کو اس راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔