جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے: پاکستانی فوج

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی طرف سے میانمار کی طرز پر پاکستان کی سرحد کے اندر فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی پر پاکستان کے وزیر داخلہ اور پاکستان فوج کی طرف سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر د اخلہ چوہدری نثار علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بھارت کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میانمار نہیں ہے۔‘
ادھر راولپنڈی میں واقع پاکستان فوج کے ہیڈکوارٹر میں بدھ کو کور کمانڈروں کے اجلاس میں ملک کی سرحدوں کے تحفظ کا ہر قیمت پر دفاع کرنے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ کی قیادت میں ہونے والے اس اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی وزرا کے حالیہ بیانات کے علاوہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھارت کی طرف سے کی جانے والی مبینہ خفیہ اور اعلانیہ کارروائیوں کا بھی نوٹس لیا گیا۔
کور کمانڈروں کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بھارتی سیاست دانوں کے پاکستان کے بارے میں دیے جانے والے بیانات کو مایوس کن اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج اور حکومت کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے بیانات بھارتی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات راجيہ وردھن سنگھ راٹھور کے بیان کے ردِعمل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
بھارتی وزیر نے برمی سرحد کے اندر بھارتی فوج کی کارروائی کو پاکستان سمیت ان دوسرے ممالک کے لیے ایک پیغام قرار دیا تھا جہاں بھارت مخالف شدت پسند نظریات والے لوگ بستے ہیں۔
فوجی حکام نے کہا کہ یہ نہایت مایوس کن ہے کہ بھارتی سیاست دان نہ صرف ایسے اقدامات میں ملوث ہو رہے ہیں جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے بلکہ وہ دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا دعویٰ فخریہ طور پر کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فارمیشن کمانڈر کے اجلاس میں پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کے تحفظ کے عزم کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی کارروائی کا موزوں جواب دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستانی فوج کے بیان سے کچھ ہی دیر قبل ملکی وزارتِ داخلہ نے بھی اسی بارے میں اپنا بیان جاری کیا تھا۔ جس میں وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف غلط عزائم رکھنے والے کان کھول کر سن لیں: ’پاکستانی افواج ہر قسم کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اجارہ داری قبول نہیں ہے، ’بھارتی قیادت دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دے۔‘
چوہدری نثار نے کہا کہ ہندوستانی وزیروں کے نت نئے دھمکی آمیز بیانات سے پاکستان مرعوب نہیں ہو گا۔
اپنے بیان میں پاکستانی وزیر نے مذاکرات کی ناکامی اور لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج کی جانب سے کی جانے والی بمباری ہر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔
بھارتی فوج نے منگل کو برما کی سرحد کے اندر داخل ہو کر شدت پسندوں کے دو کیمپ تباہ کیے تھے۔ اس کے بعد مرکزی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات راجيہ وردھن سنگھ نے کہا تھا کہ ’یہ پاکستان سمیت تمام ممالک اور تنظیموں کے لیے ایک پیغام ہے جو ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے اس کی کوئی دوسری شناخت نہیں ہوتی۔ ہم جب چاہیں گے تب کارروائی کریں گے۔‘
بھارتی وزیر نے وضاحت کی تھی کہ سرحد پار یہ کارروائی کرنے کا فیصلہ ملک کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کیا تھا اور بھارت اپنی منتخب جگہ اور وقت پر کارروائی کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
راٹھور خود بھی بھارتی فوج میں کرنل رہ چکے ہیں۔ انھوں نے اخبار سے کہا: ’ہم بھارت پر حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ ہم ہمیشہ پہل کریں گے، چاہے دوستی کے لیے یا جارحانہ کارروائی کے لیے۔ ہم اپنی منتخب جگہ اور وقت پر کارروائی کریں گے۔‘
فوج کی کارروائی کے بعد راٹھور نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’بھارتی فوج نے شدت پسندوں کے دل پر حملہ کیا ہے۔ ملک کے دشمنوں کو کرارا جواب۔‘
اس بارے میں انھوں نے ٹی وی نیوز چینل ٹائمز ناؤ سے بات چیت میں کہا تھا کہ ’یہ خصوصی فوجی دستوں کی میانمار سرحد کے اندر سرانجام دی گئی مہم تھی۔ بھارتی فوج نے شدت پسندوں کے دو کیمپ تباہ کر دیے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ، ’یہ وزیر اعظم کی طرف سے کیا گیا ایک تاریخی فیصلہ تھا۔‘
اس سے پہلے بھارتی فوج نے بھی بھارت اور برما کی سرحد پر شدت پسندوں کے ساتھ تصادم کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اس میں بڑی تعداد میں شدت پسند مارے گئے۔
بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں فوجی مہمات کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل رنبير سنگھ نے بتایا کہ منگل کی صبح برما کی سرحد پر دو الگ الگ مقامات پر بھارتی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم ہوا۔
رنبير سنگھ نے کہا: ’گذشتہ کچھ دنوں میں ہمیں انتہائی قابل اعتماد اور درست معلومات ملی تھیں کہ ہمارے خلاف کچھ اور حملے ہو سکتے ہیں۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہم نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔‘
اس مہم میں برما کے تعاون کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ، ’ہم برمی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعاون کی تاریخی روایت ہے اور ہم مستقبل میں بھی ان سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔‘







