’عدالتیں آئینی ترمیم یا قانون ختم نہیں کر سکتیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC urdu
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں 21ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کا کام آئین کی تشریح کرنا ضرور ہے لیکن وہ کسی بھی آئینی ترمیم یا قانون کو بیک جنبشِ قلم کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔
پیر کے روز چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو شدت پسندی کا سامناہے اور ایسے حالات میں ملکی بقا کے لیے بہت سے ایسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں جو عام حالات میں نہیں کیے جاتے۔
اُنھوں نے کہا کہ ملک میں قانون سازی کا اختیار عوام کے پاس ہے اور پارلیمنٹ عوام کا منتخب کردہ فورم ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق پارلیمنٹ میں موجود اکثریت سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ چونکہ ملک میں شدت پسندی سے متعلق غیر معمولی حالات ہیں، اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ میں یہ نکتہ زیرِ بحث ہے کہ کیا ایک سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے؟
اس پر اٹارنی جنرل نے شیخ لیاقت حسین کے مقدمے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مقدمے میں فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے فوجی اہلکار، دوسرے فوج سے منسلک افراد اور تیسرے جو دفاعِ پاکستان کا حصہ ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ملک کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں اور ریاست کی عمل داری کو تسلیم نہ کرنے والوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ضیاءالرحمٰن کیس میں خود تسلم کیا ہے کہ وہ آئین سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت 23 جون تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔







