فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف درخواستوں کی سماعت آج

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ جمعرات کو اکیسویں ترمیم کے تحت ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دس سے زائد درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔
چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 17 جج صاحبان ان درخواستوں کی سماعت کریں گے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلا تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف درخواستیں دی تھیں۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے ان تمام درخواستوں کو یکجا کردیا ہے۔
ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کا قیام موجودہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔
اس کے علاوہ یہ عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ان درخواستوں میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی قانون بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہو تو سپریم کورٹ پارلیمنٹ کی طرف سے بنائے گیے کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ اگرچہ سپریم کورٹ کو آئین سازی کا اختیار نہیں ہے لیکن اُسے آئین کی تشریح کا اختیار ضرور حاصل ہے۔
ان درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق قانون کو کالعدم قرار دے۔
وفاق کی طرف سے اس ضمن میں جمع کروائے گئے ابتدائی جواب میں کہا گیا ہے کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور ایسے حالات میں وہی اقدامات کیے جاتے ہیں جو ملک اور اس کی عوام کے مفاد میں ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جواب میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے درخواست گزاروں کا بنیادی حق متاثر نہیں ہوتا لہٰذا ان درخواستوں کو مسترد کردیا جائے۔







