’فوجی عدالتوں کے تحت قانونی عمل کا آغاز‘

جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق فوجی عدالتوں کے تحت قانونی عمل کا آغاز ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہISPR Twitter

،تصویر کا کیپشنجنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق فوجی عدالتوں کے تحت قانونی عمل کا آغاز ہو گیا ہے

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آئینی ترمیم کے بعد حال ہی میں قائم کی گئی فوجی عدالتوں کو وزارت داخلہ کی جانب سے بارہ مقدمات موصول ہو گئے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ صوبائی ایپکس کمیٹیوں نے مقدمات وزارتِ داخلہ کو بھجوائے جن کی چھان بین کے بعد انہیں فوج کو بھجوایا گیا۔

<link type="page"><caption> فوجی عدالتیں، سوالات اور دائرہ کار کےبارے میں اس لنک پر پڑھیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/01/150108_military_courts_conflict_challenge_hk" platform="highweb"/></link>

جنرل عاصم باجوہ نے لکھا کہ پہلے مرحلے میں 12 مقدمات فوجی عدالتوں کو دیے گئے ہیں جس کے بعد قانونی عمل شروع ہو گیاہے۔

پاکستانی پارلیمان نے گذشتہ سال دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس حملے کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤں میں منعقد ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر 2 جنوری کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تھا۔

انہیں اقدامات کے تحت پارلیمنٹ میں 21ویں ترمیم کی منظوری متفقہ طور پر دی گئی تھی۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ نے قومی اسمبلی میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ابتدائی طور پر ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جن میں پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خوا میں تین تین ، سندھ میں دو جبکہ بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے 21ویں ترمیم کو آئین سے منافی قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے 28 جنوری کو وفاق سمیت چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

سپریم کورٹ میں لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی درخواست کی سماعت تین رکنی بینچ کر رہا ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کر رہے ہیں اور اس کی اگلی پیشی 12 فروری کو ہو گی۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کی اس درخواست میں ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کو خلاف آئین قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے فوجی عدالتوں کے قیام پر یومِ سیاہ منانے کے ساتھ عدالتوں کا بائیکاٹ بھی کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دایر کی گئی درخواستوں میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔