’فوج کو اپنا کام کرنے دیں، اس پر اضافی ذمہ داریاں نہ ڈالیں‘

ان درخواستوں کی سماعت 25 مئی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنان درخواستوں کی سماعت 25 مئی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ کے جج نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو عدالتی اختیارات دینے سے حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو پھر فوجی دور حکومت میں سوات شدت پسندوں کے نرغے میں کیسے آیا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ابھی تک بدامنی کیوں ہے؟

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ فوج کو اپنا کام کرنے دیں اور ان پر اضافی ذمہ داریاں نہ ڈالیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار ہے اور وہ کسی بھی ایسے قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جو مفاد عامہ کے خلاف ہو۔

بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کے تحت فوج کا کام ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا اور ہنگامی صورت حال میں سول انتظامیہ کی مدد کرنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جو سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے وہاں پر بھی فوج کارروائیاں کر رہی ہے لیکن وہاں پر ابھی تک امن قائم نہیں ہو سکا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی کرنل رینک کا افسر آ کر یہ کہے کہ اس کا کام تو ملک کا دفاع کرنا ہے اور اسے جج کی اضافی ذمہ داریاں کیوں دی گئیں تو پھر شاید اس کا جواب کسی کے پاس نہ ہو۔

اس مقدمے میں سرکار کے وکیل خالد انور کا کہنا تھا کہ 21ویں ترمیم کے تحت ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام امن و امان سے متعلق غیر معمولی حالات کی وجہ سے کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ موجودہ سول عدالتی نظام کے تحت مجرموں کو سزائیں نہیں دی گئیں جس کی وجہ سے شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی فوجی عدالتیں قائم ہیں لیکن وہاں پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

خالد انور کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو فوجی عدالتوں کے امور میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے بلکہ وہ ان عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مقدمہ کے فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ داری عدلیہ پر نہیں بلکہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، اور پراسیکیوشن کی وجہ سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوئی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی اور دیگر عدالتوں نے آٹھ ہزار سے زائد افراد کو ڈیتھ سیل میں پہنچایا ہے اور ان افراد کو دی جانے والی سزاؤں پر عمل درآمد میں تاخیر کی ذمہ دار عدلیہ نہیں بلکہ انتظامیہ ہے۔

خالد انور کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے پاس وہی اِختیار ہے جو اُنھیں پاکستانی آئین نے دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مقننہ ایک متحرک طاقت ہے جبکہ عدلیہ اُس وقت متحرک ہوتی ہے جب اُسے طاقت دی جاتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ اُن قوانین کے تحت مقدمات کے فیصلے کرتی ہے جو اُنھوں نے نہیں بنائے۔

ان درخواستوں کی سماعت 25 مئی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔