’فوجی عدالتوں کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا گیا‘

جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں

،تصویر کا ذریعہBBC urdu

،تصویر کا کیپشنجسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی سزائیں معطل کر دی ہیں۔

عدالت نے یہ حکم جمعرات کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی ایک متفرق درخواست پر دیا۔

اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ حال ہی میں فوجی عدالتوں کی طرف سے سات ملزمان کو دی جانے والی سزا پر عمل درآمد کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک ان عدالتوں کے خلاف دائرشدہ درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

فوجی عدالتوں نے رواں ماہ کے آغاز میں <link type="page"><caption> چھ افراد کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/04/150402_military_court_execution_verified_tk.shtml" platform="highweb"/></link>سنائی تھی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے جمعرات کو 18ویں اور 21ویں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے موقعے پر درخواست گزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا پارلیمنٹ کی طرف سے بنایا گیا کوئی بھی قانون اگر آئین کے بنیادی ڈھانچے اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہو تو سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا پانے والوں کے پاس اپیل کا حق ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے سوال کیا کہ حکومت کو ان سزاؤں پر عمل درآمد کی کیا جلدی ہے اور کیوں نہ انھیں کچھ عرصے کے لیے موخر کر دیا جائے۔

جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت سے سزا پانے والوں کو آرمی ایکٹ کے شق 133 بی کے تحت اپیل کا حق حاصل ہے جسے وہ استعمال کر سکتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک نے کہا کہ ان افراد کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں اور انھیں سزا ملنے کی خبر بھی میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئی۔

فوجی عدالتیں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی تھیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنفوجی عدالتیں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی تھیں

ان کا کہنا تھا ایسی صورت حال میں یہ یقین کیسے ہو کہ ان کے خلاف مقدموں کی کارروائی منصفانہ تھی اور یہ کہ ان کی اپیل پر بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی یا نہیں۔

جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ ماضی میں بھی فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور ماضی میں جب فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو اس وقت تک دو افراد کو پھانسی دی جا چکی تھی۔

انھوں نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ اچانک پتا چلے کہ اپیل خارج ہونے کے بعد پھانسی دی جا رہی ہے۔

سماعت کے بعد عدالت نے فوجی عدالت سے سزا پانے والوں کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر حتمی فیصلہ آنے تک یہ سزا معطل رہے گی۔

عدالت نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کیس کی سماعت 22 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد شدت پسندی کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے پارلیمنٹ میں 21ویں ترمیم کے تحت دو سال کے لیے ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔

اس ضمن میں پارلیمنٹ سے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کروائی گئی تھی۔

اس کے بعد فوجی عدالت نے رواں ماہ کے آغاز میں شدت پسندی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چھ مجرموں کو موت جبکہ ایک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

فوج کی جانب سے نہ تو ان مقدموں کی تفصیل کے بارے میں کچھ بتایا گیا اور نہ ہی یہ بات سامنے آئی کہ ان فوجی عدالتوں نے ان مقدمات کی سماعت کہاں پر کی ہے۔

میڈیا کو بھی ان مقدمات کوریج کی اجازت نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیں کام کر رہی ہیں جن میں سے صوبہ خیبر پختون خوا اور صوبہ پنجاب میں تین تین، جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم ہے۔