21ویں ترمیم کے خلاف درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی 21ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
پشاور میں طالبان کے حملے میں درجنوں طلبہ سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد قومی ایکشن پلان کے تحت لائی جانے والی اس آئینی ترمیم میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے دہشت گردی کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔
آئینی ترمیم کے خلاف یہ درخواست لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والی مقدمات کی کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 28 جنوری سے اس درخواست کی سماعت کرے گا۔
جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم بھی اس بینچ کا حصہ ہوں گے اور ابتدائی سماعت کے بعد عدالت اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ دے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان سماعت کے دوران عدالت میں درخواست گزاروں کی نمائندگی کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ترمیم جمہوریت سے متصادم تو ہے لیکن ملک کی غیرمعمولی صورتِ حال میں یہ ناگزیر ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی پارلیمنٹ میں 21ویں ترمیم کی منظوری متفقہ طور پر دی گئی تھی اور اس پر کسی بھی سیاسی جماعت نے اعتراض نہیں کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم کچھ مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس کی مخالفت کے بعد ملک کی وکلا برادری کے ایک دھڑے نے بھی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وکلا برادری نے ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کو آزاد عدلیہ پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا تھا اور لاہور کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی ان عدالتوں کے قیام کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی تھی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ابتدائی طور پر ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی جن میں سے پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تین تین، سندھ میں دو جبکہ ایک فوجی عدالت بلوچستان میں قائم کی جائے گی۔







