پارلیمان میں آرمی ایکٹ اور 21 ویں آئینی ترمیم کی منظوری

یہ بل قومی اسمبلی سے متفقہ منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ بل قومی اسمبلی سے متفقہ منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیے جائیں گے

پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بھی 21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔

قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے عمل میں جماعت اسلامی اور حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حصہ نہیں لیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے سینیٹ میں بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

سینیٹ میں بل پیش کرنے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آئین میں ترمیمی بل کی ضرورت تھی۔

انھوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کا نام لیے بغیر کہا اگر ایک دو جماعتوں کو ان سے اختلاف ہے تو حکومت نے اسے ختم کرنے کی کوشش کی اور اسی وجہ سے قومی اسمبلی کا اجلاس دیر سے شروع کیا گیا۔

سینیٹ کے ممبران کی تعداد 104 ہے جن میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اراکین کی تعداد چھ ہے۔ جب ترمیمی بل پیش کیا گیا تو اس وقت ایوان میں حاضر اراکین کی تعداد 78 تھی اور سب نے متفقہ طور پرفوجی ایکٹ میں ترمیم کے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ چیئرمین سینیٹ کے مطابق آئین میں ترمیم کے حق میں 77 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔

قومی اسمبلی سے منظوری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اس سے پہلے قومی اسمبلی میں 21 آئینی ترمیم کے حق میں 247 اراکین نے ووٹ دیے۔

قومی اسمبلی میں ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا تو پیپلز پارٹی نے ساتھ دیا کہ اگر اس سے پاکستان کا فائدہ ہوتا ہے تو جماعت حکومت کے ساتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہم سب مشکل فیصلوں کے لیے جمع ہیں تاکہ پاکستانی عوام اور زمین کو محفوظ اور بچا سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ترامیم مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں ہیں بلکہ شدت پسندوں کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ترامیم ان لوگوں کے لیے ہیں جو دھماکوں اور قتل و غارت میں ملوث ہیں۔ ’یہ ترامیم ان کے لیے ہیں جو سلمان تاثیر کی یاد میں شمعی جلانے والوں پر حملہ کرتے ہیں۔‘

قومی اسمبلی میں 21 ویں آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم پر بحث پیر کے روز شروع کی گئی تھی۔

پیر کو بحث کا آغاز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ترمیم کا جمہوریت سے تضاد تو ہے لیکن ملک کی غیرمعمولی صورتحال میں یہ ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایک ایسی آئینی ترمیم ہے جس کا دیکھنے میں اور کہنے میں تو پارلیمنٹ سے اور جمہوری نظام حکومت سےایک تضاد ہے۔ یہ بات چند سال پہلے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتی تھی کہ اس ایوان میں ملٹری کورٹس پر قانون سازی ہوگی مگر صرف قانون سازی نہیں ہو گی بلکہ محدود وقت کے لیے ایک آئینی تبدیلی کے ذریعے اسے قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں حالت جنگ میں قائم کی جاتی ہیں اور پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی تھی جبکہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیر کو اجلاس شروع ہونے سے پہلے آئینی ترمیم کے لیے کی جانے والی ووٹنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اسلام آباد میں پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مدارس کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے متوقع اقدامات اور کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اپنے اشتہارات میں یہ تصور پیش کر رہی ہے کہ مدارس دہشت گردوں کے مراکز ہیں۔

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں 21ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی منظوری کے بعد مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی:

  • پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والےفوج اور قانون نافذ کرنے والے
  • اداروں پر حملہ کرنے والےاغوا برائے تاوان کے مجرم
  • غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے
  • مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے
  • کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین
  • سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والےدھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد
  • دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے والے
  • بیرونِ ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے