’امید ہے سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے معاملات میں ضائع نہیں کیا جائے گا‘

کور کمانڈر کانفرنس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی اور جاری آپریشنز سمیت کے جائزے کے علاوہ میں اینٹیلیجنس بنیادوں پر ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکور کمانڈر کانفرنس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی اور جاری آپریشنز سمیت کے جائزے کے علاوہ میں اینٹیلیجنس بنیادوں پر ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا گیا

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت کور کمانڈر کانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملک کی سیاسی قیادت وسیع پیمانے پر ہونے والے سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے معاملات کی وجہ سے ضائع نہیں کرے گی۔

جمعرات کی صبح آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت کور کمانڈر کانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی جبکہ وزیراعظم ہاؤس میں سول اور فوجی حکام کا بھی اہم اجلاس ہوا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کور کمانڈر کانفرنس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی اور جاری آپریشنز سمیت کے جائزے کے علاوہ میں اینٹیلیجنس بنیادوں پر ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اس اجلاس میں آرمی چیف نے فوج کی جانب سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے ہونے والی پیش رفت پر بات ہوئی۔

کانفرنس کے شرکا نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ملک کی سیاسی قیادت وسیع پیمانے پر ہونے والے سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے معاملات کی وجہ سے ضائع نہیں کرے گی۔

آرمی چیف نے اپنے خطاب میں ملک کی سیاسی قیادت کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس میں کیے جانے والے عزم کی تعریف کی۔

’پوری قوم دہشت گرددوں اور ان کے حامیوں کے خلاف جراتمندانہ اور بامقصد فیصلوں کے لیے ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کی جانب دیکھ رہی ہے۔‘

انھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ ملک کے تمام ادارے وقت ضائع کیے بغیر قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرے گی۔

کانفرنس کے شرکا نے پشاور سانحے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ بھی کہ پاکستان کی سرزمین سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کے خلاف جاری آپریشن نہیں روکے جائیں گے۔

دوسری جانب سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے لیے بنائے جانے والے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کا تحفظ کیا جائے گا اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد پہلی ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بے خوف ہو کر جنگ کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں تک لے جائیں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔