قومی ایکشن پلان عملدرامد: 15 ذیلی ورکنگ گروپس قائم

،تصویر کا ذریعہPID
وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کے لیے 15 ذیلی ورکنگ گروپ قائم کر دیے ہیں۔
وزیر اعظم میاں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم کیے جانے والے انسداد دہشت گردی کے قومی ایکشن پلان کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جو ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں سات رکنی گروپ: مسلح گروہوں کے خاتمے کے لیے
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں نو رکنی گروپ: انسداد دہشت گردی فورس کی تشکیل
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں آٹھ رکنی گروپ: کالعدم تنظیموں کا نام تبدیل کر کے فعال ہونا
- وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں سات ممبر گروپ: شدت پسندوں کی مالی امداد کی بندش
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں 13 رکنی گروپ: اشتعال انگیز مواد اور تقاریر پر بندش
- وفاقی وزیر اطلاعات کی سربراہی میں چھ ممبر گروپ: میڈیا پر شدت پسندی کی ترغیب
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں سات ممبر گروپ: شدت پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا استعمال
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں نو رکنی گروپ: کراچی آپریشن کو منتقی انجام تک پہنچانا
- گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان کی سربراہی میں سات رکنی گروپ: فاٹا میں ترقیاتی کام اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں چھ ممبر گروپ: مدارس اصلاحات
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک اور گروپ: فرقہ واریت اور شدت پسندی
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک اور گروپ: صوبہ پنجاب کے کچھ علاقوں میں فرقہ واریت
- وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک گروپ: مذہب کی بنیاد پر استحصال کرنا
وزیر اعظم نے اس موقعے پر کہا کہ ’حکومت شرپسند عناصر کے خلاف اپنے فولادی عہد پر قائم ہے اور تمام ضروری اقدام کرنے کی پابند ہے تاکہ پشاور میں بہنے والا خون رائیگاں نہ جائے۔‘
وزیراعظم نے مختصر مدت میں زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان براہ راست رابطے اور تعاون پر زور دیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر دہشت گردی سے نمٹنے والے ادارے نیکٹا کو زیادہ فعال بنايا جائے گا۔ اس سلسلے میں مجلس عاملہ کا اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہے جو وفاقی وزیر داخلہ کی صدارت میں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس اجلاس کے دوران پشاور حملے میں ’ملوث دشمن جنگجوؤں، دہشت گردوں اور اس میں مالی تعاون دینے والوں‘ کے متعلق آئینی اور قانونی ترامیم کا پہلا مسودہ وزیر اعظم کو پیش کیا گيا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری فوج کے جوانوں کو قانونی تحفظ فراہم کرایا جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنی قانونی ٹیم سے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی یہ مسودہ دکھایا جائے اور ان سے بھی اس پر رائے لی جائے۔
انھوں نے اس ترامیم میں دہشت گردی کے واقعات اور اقلیتوں کے خلاف نسلی تشدد کو بھی شامل کرنے کی ہدایات دیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو تمام پاکستانیوں کے لیے بلا تفریق مذہب و نسل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس اجلاس میں وفاقی وزیر مالیات اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اعظم کے مشیران عرفان صدیقی، خواجہ ظہیر احمد، بیرسٹر ظفراللہ اور اٹارنی جنرل نے شرکت کی۔







