اور میٹنگ برخاست ہو گئی۔۔۔

کتنی ہی تنظیمیں ہیں جن کو حکومت نے کالعدم قرار دیا لیکن وہ نام تبدیل کر کے دوبارہ فعال ہو گئیں۔ کتنی ہی شدت پسند تنظیمیں ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کھلے عام زہر اگل رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنکتنی ہی تنظیمیں ہیں جن کو حکومت نے کالعدم قرار دیا لیکن وہ نام تبدیل کر کے دوبارہ فعال ہو گئیں۔ کتنی ہی شدت پسند تنظیمیں ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کھلے عام زہر اگل رہی ہیں
    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پشاور کے سکول میں طالبان کے ہاتھوں 130 بچوں کے قتل ہونے کے بعد سول حکومت اور فوج نے آخر کار شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ٹھان لی ہے۔

ماضی میں ہوئیں کُل جماعتی کانفرنسوں کی طرح اس بار بھی آل پرٹیز کانفرنس کے بعد ملک میں جاری شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ اس لائحہ عمل کا اعلان وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے قوم سے خطاب میں کیا۔

اس 20 نکاتی لائحہ عمل میں خصوصی عدالتوں کے قیام کے علاوہ شائد ہی کوئی اور نئی بات ہو۔ ان عدالتوں کی سربراہی فوجی افسران کریں گے اوریہ دوسال کے لیے قائم کی جائیں گی۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات فوری طور پر نمٹانا ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے سے پہلے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار شہری اور فوجی شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیکن اس سے قبل تو انہی وزیر اعظم نے پچھلے سال جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور کے قریب فوجی مشقوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہی شدت پسندوں کو ’معاشرے کےگمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار‘ افراد قرار دیا تھا۔

یہ وہی حکومت ہے جس نے امن کو موقع دینے کی ناگزیر ضرورت پر زور دیتے ہوئے بات چیت کے ذریعے امن کی بحالی کی اپنی خواہش کو دہرایا تھا۔

لیکن اسی حکومت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پشاور سانحہ کے بعد ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ 2013 میں جب طالبان اور دیگر گروپوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا گیا اس وقت فوجی آپریشن کرنا چاہیے تھا۔

20 نکاتی ایکشن پلان میں شدت پسندوں کی مالی وسائل کے حصول کے تمام ذرائع ختم کرنے، فرقہ واریت، انتہا پسندی اور عدم برداشت پر مبنی نفرت انگیز مواد اور پروپیگنڈا کی اجازت نہ دینا بھی شامل ہیں۔

لیکن کیا یہ آئین کا پہلے ہی سے حصہ نہیں ہیں؟ ضرورت ہے تو ان قوانین پر علمدرآمد کرانے کی۔

کتنی ہی تنظیمیں ہیں جن کو حکومت نے کالعدم قرار دیا لیکن وہ نام تبدیل کر کے دوبارہ فعال ہو گئیں۔ کتنی ہی شدت پسند تنظیمیں ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کھلے عام زہر اگل رہی ہیں۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے سے پہلے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار شہری اور فوجی شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنپشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے سے پہلے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار شہری اور فوجی شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں

لیکن کیا کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی یا ان کو نام تبدیل کر کے دوبارہ فعال نہ ہونے دینے یا شدت پسند تنظیموں کو سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا نہ کرنے دینے کے لیے بھی قومی ایکشن پلان ہی کی ضرورت ہے یا کسی کی اجازت کی؟

شدت پسندی کے خلاف حکومتی ردِ عمل کے حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا جب ایک عالمی تنظیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے طالبان کے حوالے سے اسلام آباد اور کابل کے سٹاف کی میٹنگ ہوئی۔

اس میٹنگ میں طالبان کے حوالے سے جامع پالیسی بنانے کے لیے بھرپور سفارشات پیش کی گئیں۔ یہ میٹنگ کوئی دو گھنٹے سے چل رہی تھی جب میٹنگ کی صدارت کرنے والے جرمن افسر نے کہا ’قطع کلامی معاف، لیکن کیا یہ سب کچھ کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی اجازت ہے؟‘

اور میٹنگ برخاست ہو گئی۔