پھانسی پر پابندی کا خاتمہ، درست قدم یا جذباتی ردعمل؟

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
حکومتِ پاکستان نے دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم اب بھی یہ باز گشت سنائی دیتی ہے کہ ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کی موثر قانون سازی اور تفتیش میں ناکام رہا ہے۔
منگل کو پشاور میں سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری دی ہے۔
جذباتی اور عجلت کا ردِ عمل
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف نے حکومت پاکستان کی جانب سے موت کی سزا سے اٹھائی جانے والی پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور کے واقعے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کا ایک جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔
بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں یہ ایک جذباتی ردعمل ہے، وزیراعظم نے محسوس کیا ہو گا ایکشن لینے کے لیے، دہشت گردی کے خلاف ملک اس وقت متحد ہے، ایک واضح کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سزائے موت پر رسمی نہیں بلکہ غیر رسمی طور پر پابندی عائد تھی۔‘
لیکن زہرہ یوسف کے برعکس پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ایڈوکیٹ لطیف آفریدی یہ امید رکھتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کے مقدمات میں موت کی سزا پر عمل درآمد ہوجائے تو اس کے اثرات اچھے ہوں گے۔
’اس طرح کے مقدمات سینکڑوں ہیں، سیکنڑوں پر اگر عمل درآمد ہوجائے تو دوسرں کے لیے یہ عبرت بن جائے گا۔‘
حکومت پاکستان کی جانب سے اس فیصلے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے تاہم کتنے قیدی دہشت گردی کے مقدمات میں موت کی سزا سن چکے ہیں اور ان کی تمام اپیلیں بھی مسترد ہو چکی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ ابھی اعداد و شمار اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت کل 8500 کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے نام سے لاہور میں قائم ادارے کی سرابراہ سارہ بلال نے اس حکومتی فیصلے کو عجلت پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے پاکستانی جیلوں میں دہشت گردی کے مقدمات کے تحت سزا پانے والے قیدیوں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ادارے نے 2012 تک کے قیدیوں کی فہرست حاصل کی ہے۔
سارہ بلال بتاتی ہیں کہ سال 2012 میں پاکستان میں سزائے موت پانے والے کل قیدیوں کی تعداد 6000 سے زائد مجرموں میں سے 10 سے 12 فیصد قیدی ایسے تھے جنھیں دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔
’پنجاب میں 641 سندھ میں 131 خیبرپختونخوا میں 20 جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت موت کی سزا پانے والوں کی تعداد 26 تھی۔‘
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی سربراہ کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کی عدالتوں سے ایسے مجرم بھی سزا یافتہ ہیں جن کا جرم دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔
انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے سزائے موت اور خاص طور پر دہشت گردی کے اقدامات میں ملوث افراد کو سزا دیے جانے کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ ایچ آر سی پی کی سربراہ اس کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں۔
پاکستان کے عدالتی نظام خصوصاً تفتیشی نظام بہت کمزور رہا ہے اور اس کی وجہ سےدہشت گردی کے مقدمات میں 60 فیصد ایسے مجرم ہیں جنھیں شواہد نہ ہونے کی بنا پر عدالتیں بری کر دیتی ہیں۔
زہرہ یوسف کے بقول ’جب تحقیقات کمزور ہوتی ہیں تو اس میں بہت گنجائش ہوتی ہے کہ اس میں موت کی سزا کسی معصوم کو بھی ہو سکتی ہے اور پھانسی کی سزا دوبارہ بحال ہو رہی ہے تو کسی معصوم کو بھی موت کی سزا ہو سکتی ہے۔‘
وزیراعظم نواز شریف نے پشاور میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والی عدالتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور مقدمات سالہاسال تک چلتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تفتیش کی کمزوریاں الگ ہیں، اور جب تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ اس موقعے پر انھوں نے پارلیمان پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے سوچ بچار کریں۔
پاکستان میں موجود دہشت گردی کے قوانین پر کئی سال سے عمل ہو رہا ہے اور نئے قوانین بھی سامنے آئے ہیں لیکن پھر بھی ناکامی کیوں؟
دہشت گردی کے خلاف قوانین کا اثر
ایچ آر سی پی سے منسلک قانونی ماہر جسٹس (ر) شیر محمد کہتے ہیں کہ 1997 میں انسداد دہشت گردی کا قانون بنا اور پھر ’ایکشن ان ایڈ آف سول پارو ریگولیشن 2011‘ سے بھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان دو قوانین کے تحت بہت سارے لوگوں کو بغیر عدالتی کاروائی کے حبس بیجا میں رکھا گیا اور اس بعد بننے والے تحفظ پاکستان ایکٹ میں بھی بہت سختی ہے۔
جسٹس (ر) شیر محمد کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی عدالتیں تو بہت زیادہ ہیں لیکن ناقص شہادتوں کی بنیاد پر بہت سے لوگ عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چشم دید گواہ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، سائنسی ترقی سے استفادہ کرنا چاہیے لیکن پاکستان میں تاحال ایسا نہیں ہو سکا۔
’میرے خیال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں قانون اور آئین کے دائرہ اختیار کے اندر باہمی مفاہمت ہونی چاہیے اور انھیں ان پیچیدگیوں کو سمجھنا چاہیے، میرے مشاہدے کے مطابق بہت سے چالان جو عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں وہ ناقص ہوتے ہیں اور عدالت کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ جب تک قابل یقین شہادت نہ ہو تو وہ کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ ‘
جسٹس (ر) شیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ 2001 سے لے کر 2014 تک شدت پسندوں کے سرغنہ ان کو تربیت دینے والوں کا آج تک پتہ نہیں لگ سکا۔
’موت کی سزا کا قانون تو موجود ہے جس سے بحیثیت وکیل اتفاق یا اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن اگر اس قانون کے تحت شہادت کا معیار اور تفتیش کا انداز موثر نہ ہو تو یہ قوانین بے اثر ہو جاتے ہیں۔‘
لطیف آفریدی کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس وقت دیگر ممالک میں انسداد دہشت گردی کے قوانین سے سیکھنا چاہیے جن میں سری لنکا، برطانیہ اور بھارت شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں 2008 کے بعد سے اب تک سول عدالت کی طرف سے دی جانے والی موت کی کسی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا تاہم 2012 میں فوجی عدالت قتل کے جرم میں سزا پانے والے قیدی کو میانوالی میں پھانسی دی گئی تھی۔







