شمالی وزیرستان: فضائی کارروائی میں 23 شدت پسند ہلاک

شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی کے ساتھ زمینی کارروائیاں بھی جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی کے ساتھ زمینی کارروائیاں بھی جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی حکام نے فضائی کارروائیوں میں23 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں بعض اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔

بیان کے مطابق جمعے کی شام کو شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ایک موثر اور ٹھیک ہدف پر فضائی کارروائی کی گئی۔

اس کارروائی میں 23 شدت پسندوں کی ہلاکت کے علاوہ زیر زمین گولہ بارود کا ذخیرہ اور سرنگوں کا نظام بھی تباہ ہو گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب اس سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق اب تک سینکڑوں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے بھی ہو چکے ہیں اور جمعے کو ہی شوال میں دو ڈرون حملوں میں تین عیر ملکیوں سمیت آٹھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

16 دسمبر کو پشاور میں سکول پر طالبان کے حملے کے بعد فوج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں بھی کارروائیاں کی جاری ہیں۔

آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد علاقے میں ڈرون حملے بھی جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد علاقے میں ڈرون حملے بھی جاری ہیں

گذشتہ ماہ حکام کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر سے اس علاقے کو صاف کر دیا گیا ہے۔

سکول پر حملے کے بعد حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 20 نکات پر مشتمل قومی ایکشن پلان تیار کیا ہے جس میں قبائلی علاقوں کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی جانب سے اپنے علاقوں میں جلد از جلد واپس جانے کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے۔