’دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں‘

وزیراعظم نے گذشتہ بدھ کو بھی کہا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نے گذشتہ بدھ کو بھی کہا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ان کے ایجنڈے اور وابستگی سے قطع نظر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائیوں میں مزید سات شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> ’اچھے اور برے طالبان میں کوئی تمیز نہیں رکھی جائے گی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141217_pak_apc_tliabn_action_zz" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق سنیچر کو وزیراعظم نواز شریف نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور اس میں بہت سارے شدت پسند مارے اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب صدر مملکتِ ممنون حسین نے سنیچر کو پشاور کے فوجی ہسپتال میں زیرعلاج طلبا کی عیادت کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے مقصد کے حصول کے لیے تمام موثر قانونی اور سکیورٹی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ’دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے اور مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ سانحہ پشاور نے پوری قوم کو متحد کر دیا ہے اور جو لوگ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے اب ان کی رائے بھی بدل گئی ہے۔ قوم اب دہشت گردی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور اس کی بنیادی وجوہات کو ہدف بنانے کے لیے تیار ہے۔‘

سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف پاکستان اور اس کے قبائلی علاقوں میں کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف پاکستان اور اس کے قبائلی علاقوں میں کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

سنیچر کو صوبہ خیبر پختونخوا اور اس کے ملحقہ نیم قبائلی علاقے میں شدت پسندوں سے جھڑپوں میں کم از کم سات شدت پسند اور دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پشاور پولیس کے ایس ایس پی شاکر بنگش نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ ایک جھڑپ ایف آر پشاور کے علاقے کوئی حسن خیل میں ہوئی۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران تحریکِ طالبان کے پانچ شدت پسند مارے گئے۔

ایس ایس پی بنگش نے بتایا کہ مارے جانے والے تمام افراد کا تعلق تحریکِ طالبان کے طارق گیدڑ گروپ سے ہے اور ان میں سے ایک مصطفیٰ گروپ کے اہم کمانڈر عمر نارے کا بھائی ہے۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی تحصیل شب قدر میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپ میں دو شدت پسند اور پولیس اور ایف سی کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ جھڑپ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب تھانہ سروکلی کی حدود میں ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اس واقعے میں سکیورٹی اداروں نے دو شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے پولیس کے ایس ایچ او سب انسپکٹر عشرت یار اور ایف سی کا ایک حوالدار بھی ہلاک ہوا ہے۔

جھڑپ میں دو اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں طالبان کی جانب سے پشاور میں سکول پر حملے میں 141 افراد کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف پاکستان اور اس کے قبائلی علاقوں میں کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

جمعے کو بھی ملک کے مختلف شہروں اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں 49 شدت پسند مارے گئے تھے۔