باجوڑ میں ریموٹ کنٹرول دھماکہ، کم از کم تین اہلکار ہلاک

باجوڑ ایجنسی میں کچھ عرصہ سے سکیورٹی فورسز اور طالبان مخالف لشکروں پر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنباجوڑ ایجنسی میں کچھ عرصہ سے سکیورٹی فورسز اور طالبان مخالف لشکروں پر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں کم از کم تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ باجوڑ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی شام باجوڑ ایجنسی کے دور افتادہ علاقے ڈمہ ڈولہ میں چینگئی کے مقام پر پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار گشت کرکے اپنے کیمپ کی طرف جارہے تھے کہ اس دوران انھیں سڑک کے کنارے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق دھماکے میں کم سے کم تین اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں کچھ عرصہ سے سکیورٹی فورسز اور طالبان مخالف لشکروں پر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔

اس سے قبل ایجنسی کے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا جس میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔

حکومت کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان کے علاقوں سے ہورہی ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ باجوڑ، مہمند اور سوات میں فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں فرار ہونے والے بیشتر شدت پسند تنظیموں نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری ان تنظیموں پر عائد کی جارہی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ حملہ ایسا وقت پیش آیا ہے جب تین قبل پشاور میں آرمی سکول و کالج پر طالبان کی طرف سے بڑا حملہ کیاگیا تھا جس میں 140 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مرنے والوں میں اکثریت کم عمر طالب علموں کی تھی۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں سوگ کی کیفیت پائی جاتی ہے اور ہر طرف اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے۔