باجوڑ ایجنسی میں پولیو ٹیم پر حملہ، دو لیوی اہلکار زخمی

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں گذشتہ تین دن میں شدت پسندی کا یہ تیسرا واقعہ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں گذشتہ تین دن میں شدت پسندی کا یہ تیسرا واقعہ ہے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں انسداد پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو لیویز اہلکار اور ڈرائیور زخمی ہوگیا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان باجوڑ نے دو روز پہلے ایک پمفلٹ میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ انسداد پولیو ٹیموں اور این جی اوز کے رضا کاروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

یہ واقعہ بدھ کو باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ماموند میں ڈبر کلے کے مقام پر پیش آیا۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ لیویز اہلکار انسداد پولیو ٹیم کی مہم کے لیے ایک نجی گاڑی میں جا رہے تھے کہ گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا ہے۔

یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا جس میں گاڑی کا ڈرائیور اور لیویز کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریب ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے ۔

باجوڑ ایجنسی میں تین دنوں میں تشدد کا یہ تیسرا واقعہ پیش آیا ہے۔

پاکستان میں رواں برس پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے جس کے بعد ایک برس میں نئے مریضوں کی تعداد کا 14 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں رواں برس پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے جس کے بعد ایک برس میں نئے مریضوں کی تعداد کا 14 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے

گذشتہ دو دنوں میں دو حملوں میں ایک شہری ہلاک اور فرنٹیئر کور کے تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ ہلاک ہونے والا شخص امن لشکر کا رضا کار تھا ۔

دو روز پہلے تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کی جانب سے خار کے علاقے میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا تھا جس میں سکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں یعنی این جی اوز اور نسداد پولیو ٹیم کے رضا کاروں پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔

باجوڑ اور مہند ایجنسی میں چند ماہ سے حالات کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ مہمند ایجنسی میں ساڑھے تین ماہ میں تشدد کے 24 واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں اور انسداد پولیو کی ٹیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن میں اغوا کے بعد لوگوں کی لاشیں ملی ہیں۔