پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور
پاکستانی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں برس پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ کا بدترین سال ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی تک 187 مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان میں2000 میں سب سے زیادہ یعنی 200 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
سکیورٹی خدشات کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں انسداد پولیو مہم نہیں ہو سکتی جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک مہم کے دوران اوسطاًًً 40 ہزار والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
ہیلتھ ورکروں کے لیےگھر گھر جا کر والدین کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے راضی کرنا اتنا آسان کام نہیں۔
پشاور شہر کی لیڈی ہیلتھ سپر وائزر قاضی مسرت نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے حلقہ رشید گڑھی اور دیگر علاقوں میں انکار کرنے والے والدین کی تعداد دیگر علاقوں سے کہیں زیادہ ہے ۔
پشاور میں گذشتہ دنوں ایک روزہ مہم میں 17 ہزار والدین نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔
قاضی مسرت کہتی ہیں کہ انکار کے علاوہ ان کی ہیلتھ ورکرز کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔
قاضی مسرت نے کہا کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان کی ہیلتھ ورکر کے سر پر پستول تان کر کہا تھا کہ تم اس کام سے منع نہیں ہوتی تو جان سے مار دیں گے۔ پشاور میں ان دنوں ہیلتھ ورکروں کے علاوہ رضا کار بھی انسداد پولیو مہم میں شریک ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبائلی علاقوں کی سرحد کے ساتھ واقع 13 یونین کونسلز ایسی ہیں جہاں انسداد پولیوکے قطرے پلانے والی ٹیمیں سکیورٹی کی وجہ نہیں جا سکتیں۔
خیبر پختونخوا کے انسداد پولیو کے حوالے سے ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں کے سرحدی علاقوں میں مشکلات ضرور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ ان علاقوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں دے سکتے لیکن وہاں ٹیموں کا جانے میں دشواریاں ضرور ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں انکار کرنے والے والدین کی تعداد بہت کم ہے ۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا میں چھ سے سات لاکھ بچوں میں سے صرف سات سو کے والدین نے انکار کیا جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔
امتیاز علی شاہ کے مطابق صوبے میں کسی ایک مہم کے دوران اوسطاًً 40 ہزار والدین انکار کر دیتے ہیں۔
محکمۂ صحت کے حکام کےمطابق پشاور اب صرف شاہین مسلم ٹاؤن کا علاقہ ایسا ہے جہاں نالیوں میں اب بھی پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے جبکہ دیگر تمام علاقے اب پولیو کے وائرس سے صاف کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان میں انسداد پولیو مہم یا انھیں تحفظ فراہم کرنے والے اہلکاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کے دوران متعلقہ علاقوں میں اب سخت حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں رابطہ کار زبیر مفتی نے بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں بچوں تک محفوظ رسائی نہ ملنا، والدین کا عدم تعاون اور دوار کے قطرے پلانے والے صحت کے کارکنوں اور ان کے محافظوں پر پرتشدد حملے اس بیماری پر قابو پانے کی کوششوں میں چند بڑی مشکلات ہیں جن پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔







