لکی مروت میں پانچ بچے پولیو سے متاثر

قبائلی علاقوں میں اس سال پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 89 ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنقبائلی علاقوں میں اس سال پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 89 ہو گئی ہے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پانچ بچے پولیو وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد اس سال اب تک ملک میں پولیو مریضوں کی تعداد 122 ہو گئی ہے۔

پشاور میں انسداد پوکیو مہم کے دوران 15000 والدین نے بچوں کو پولیو کے قطرے دینے سے انکار کیا ہے۔

اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت کے مطابق پولیو کے وائرس سے متاثرہ تین بچوں کا تعلق خیبر ایجنسی ، ایک بچے کا تعلق جنوبی وزیرستان اور ایک کا تعلق خیبر پختونخوا کےضلع لکی مروت سے بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق زاہب اللہ ، بلال اور منصف کی عمرین چھ ماہ ایک سال اور ڈیڑھ سال ہیں اور ان کا تعلق خیبر ایجنسی میں تحصیل باڑہ سے ہے تینوں بچوں نے انسداد پولیو کے قطر نہیں لیے تھے۔

اسی طرح جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل سے 18 ماہ کی بچی نازیہ اور خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت کی ایک سال کی بچی اقرا میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ۔ بچیوں کے والدین کے مطابق انھیں انسداد پولیو کے قطرے نہیں دیے گئے تھے۔

سن 2012 میں شدت پسندوں نے شمالی وزیرستان ایجنسی میں بچوں کوانسداد پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسن 2012 میں شدت پسندوں نے شمالی وزیرستان ایجنسی میں بچوں کوانسداد پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

قبائلی علاقوں میں اس سال پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 89 ہو گئی ہے جس میں سب سے زیادہ 61 کا تعلق شمالی وزیرستان سے بتایا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں میں دو ہفتے پہلے انسداد پولیو کی مہم شروع کی گئی تھی۔ جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں یہ مہم ان دنوں جاری ہے ۔

پشاو میں چند روز پہلے انسداد پولیو کی ایک روزہ مہم مکمل کر لی گئی ہے۔ جس میں حکام کے مطابق پندرہ ہزار سے زیادہ والدین نے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ 31000 سے زیادہ بچوں تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔

پشاور اور اس کے قریب چند اضلاع میں ان دنوں کوئی پونے سات لاکھ بچوں کو انسداد پولیو کی ویکسین دے دی گئی ہے جبکہ لکی مروت اور چارسدہ سمیت چند اضلاع میں یہ مہم ان دنوں جاری ہے۔

پاکستان میں چند سال پہلے انسداد پولیو کے قطرے پلانے والے محکمہ صحت کےکارکنوں اور ان کی حفاظت پر معمور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے بعد مہم متاثر ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں اب بھی ایسے مقامات ہیں جہاں دہشت گردی کی وجہ سے بچوں کو ویکسین نہیں دی جا سکتی ۔ اسی طرح سن 2012 میں شدت پسندوں نے شمالی وزیرستان ایجنسی میں بچوں کوانسداد پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے اس سال صحت کاانصاف مہم میں آٹھ ہفتوں تک مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دینے کی مہم مکمل کی تھی۔