افغانستان سے باجوڑ پرگولہ باری، ایک شخص ہلاک

گذشتہ روز بھی افغانستان کی سرحد کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی غاخئی چوکی پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس میں انتظامیہ کے مطابق تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز بھی افغانستان کی سرحد کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی غاخئی چوکی پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس میں انتظامیہ کے مطابق تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں منگل کو دوسرے روز بھی افغان علاقے سے داغے گئے مارٹر گولے گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

گذشتہ روز کے حملے میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آج افغانستان کے علاقے سے پاکستان کے باجوڑ ایجنسی کے علاقے چہار منگ میں دو مارٹر گولے داغے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گولے کھلے میدان میں گرے جس سے شیر علی نامی ایک شہری ہلاک ہو گیا۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ گولے کس نے فائر کیے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں کچھ عرصے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس قبائلی علاقے میں افغانستان کی سرحد کی جانب سے یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ یہ واقعات پہلے بھی کئی مرتبہ پیش آ چکے ہیں۔

گذشتہ روز بھی افغانستان کی سرحد کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی غاخئی چوکی پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس میں انتظامیہ کے مطابق تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

زخمیوں کو باجوڑ ایجنسی کے قصبے خار کے ہسپتال میں پہنچا دیا گیا تھا۔

باجوڑ ایجنسی میں افغانستان کی سرحد کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جولائی میں بھی اس طرح کے حملے ہوئے تھے جبکہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے طیاروں بھی کچھ عرصہ پہلے اس علاقے میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ سرحد کے اس پار افغانستان کے صوبہ کنڑ اور دیگر علاقوں میں شدت پسند موجود ہیں جو ان کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔