’باجوڑ میں سرحد پار حملوں میں سات فوجی ہلاک‘

گذشتہ سنیچر کو پاکستان اور افغانستان نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے لیے ایک دوسرے پر الزامات لگائے تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سنیچر کو پاکستان اور افغانستان نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے لیے ایک دوسرے پر الزامات لگائے تھے

پاکستان کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سرحد پار سے حملوں میں بدھ کو کُل سات پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے ذرائع کے مطابق ان حملوں میں سات فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے شدت پسندوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے افغان حکام سے احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دس دنوں میں یہ اس قسم کا تیسرا واقعہ ہے۔

بیان کے مطابق بدھ کی صبح سرحد پار سے مسلح عسکریت پسندوں نے باجوڑ ایجنسی کے علاقے مانوزنگل اور مخہ ٹاپ میں قائم پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ کیا۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان ان حملوں کی مذمت کرتا ہے اور یہ معاملہ کابل میں افعان حکومت اور اسلام آباد میں افعان سفات خانے کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔‘

اس سے پہلے عسکری ذرائع نے بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا تھا کہ کہ بدھ کی صبح سرحد پار سے مسلح عسکریت پسندوں نے باجوڑ ایجنسی کے علاقے مانوزنگل اور مخہ ٹاپ میں قائم پاکستانی سرحدی چوکیوں پر خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے۔

اس سے پہلے بھی ہونے والے ایک حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق 16 شدت پسند مارے گئے تھے۔

دو سال پہلے جب سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا تو پاکستان نے پہلی مرتبہ چترال اور افغان سرحد سے متتصل دیر کے اضلاع میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندو سال پہلے جب سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا تو پاکستان نے پہلی مرتبہ چترال اور افغان سرحد سے متتصل دیر کے اضلاع میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا تھا

اس کارروائی میں پاکستان نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے باجوڑ میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سنیچر کو دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے لیے ایک دوسرے پر الزامات لگائے تھے۔

پاکستان نے اس واقعے پر اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو دفترِ خارجہ میں طلب کیا تھا جب کہ افغان دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفیر نے بھی افغان دفترِ خارجہ سے اس واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

خیال رہے کہ سرحد پار افغانستان کے علاقوں سے اس پہلے بھی باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں، چترال اور دیر کے اضلاع پر طالبان جنگجوؤں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں جس میں درجنوں سکیورٹی اہل کار اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

دو سال پہلے جب ان حملوں میں اضافہ ہوا تو پاکستان نے پہلی مرتبہ چترال اور افغان سرحد سے متصل دیر کے اضلاع میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا تھا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان کی جانب سے بھی پاکستانی فوج پر افغان علاقوں میں گولہ باری کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

چند روز قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی جانب سے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان فوج کی جانب سے افغان علاقوں پر گولہ باری بند کی جائے۔