’فوجی عدالتیں جمہوریت سے متضاد لیکن وقت کی ضرورت‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ترمیم کا جمہوریت سے تضاد تو ہے لیکن ملک کی غیرمعمولی صورتحال میں یہ ناگزیر ہے۔
اجلاس منگل تک ملتوی کر دیا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم پر ووٹنگ منگل کے اجلاس میں ہو گی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں آئین میں 21ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل پر بحث کی گئی۔
اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی جبکہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اجلاس شروع ہونے سے پہلے آئینی ترمیم کے لیے کی جانے والی ووٹنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
وفاقی وزیر داخلہ نے آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایک ایسی آئینی ترمیم ہے جس کا دیکھنے میں اور کہنے میں تو پارلیمنٹ سے اور جمہوری نظام حکومت سےایک تضاد ہے۔ یہ بات چند سال پہلے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتی تھی کہ اس ایوان میں ملٹری کورٹس پر قانون سازی ہوگی مگر صرف قانون سازی نہیں ہو گی بلکہ محدود وقت کے لیے ایک آئینی تبدیلی کے ذریعے اسے قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں حالت جنگ میں قائم کی جاتی ہیں اور پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔
وزیر داخلہ نے خطاب میں سوال کیا کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے ہیں اور خود ہی اس کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان میں اس وقت نارمل صورتحال نہیں ہے پاکستان میں غیر معمولی صورتحال ہے، پاکستان کے عوام، ادارے، لیڈر شپ، اپوزیشن، پاکستان کا بچہ بچہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، فوجی عدالتیں جب بھی دنیا میں بنی یا تو جنگ کی صورتحال میں بنی یا جنگ کے بعد۔‘
دوسری جانب حکومت کی اپنی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے کچھ ہی دیر پہلے اعلان کیا کہ وہ اجلاس میں شرکت تو کریں گے تاہم ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مدارس کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے متوقع اقدامات اور کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اشتہارات میں یہ تصور پیش کر رہی ہے کہ مدارس دہشت گردوں کے مراکز ہیں۔
’اطمینان کے ساتھ بات چیت کی جائے، ہماری ترامیم اور تجاویز کو سنا جائے اور اس ان ترامیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ متفقہ چیز سامنے آئے، ایک متنازع چیز جو ہے وہ آج ان حالات میں ملک کا تقاضا نہیں ہے اور نہ ملک اس کا متحمل ہے کہ جس چیز کو ہم ختم کرنا چاہتے ہیں اسی میں دوبارہ پھنس جائیں۔‘
سنیچر کو یہ دونوں بل وزیرِ انصاف پرویز رشید نے پیش کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ حکومت کی پیشگی منظوری کے بعد چلایا جائے گا اور فوجی عدالت کو مقدمے کی منتقلی کے بعد مزید شہادتوں کی ضرورت نہیں ہو گی۔
اس کے علاوہ وفاقی حکومت زیرِ سماعت مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیج سکے گی۔
فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں 21ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی منظوری کے بعد مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی:
- پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والےفوج اور قانون نافذ کرنے والے
- اداروں پر حملہ کرنے والے
- اغوا برائے تاوان کے مجرم
- غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے
- مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے
- کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین
- سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے
- دھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد
- دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے والے
- بیرونِ ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے
وفاقی وزیر قانون و انصاف اور اطلاعات پرویز رشید کی جانب سے قومی اسمبلی میں 21ویں آئینی ترمیم کے لیے پیش کیے جانے والے مسودے میں آئینی ترمیم کے وجوہات اور مقاصد کے بارے میں کہا گیا:
’ملک میں غیر معمولی حالات اور صورتحال یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ایسے ملزمان کے خلاف مقدمات کی تیز ترین سماعت کی جائے جو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں، پاکستان کے خلاف بغاوت یا جنگ کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرات کے واقعات کو روکنا ہے۔‘
مسودے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی سالمیت اور اس کے آئین کے مقاصد جن کا تعین اس کے بنانے والوں نے کیا تھا کو دہشت گرد گروہوں سے خطرہ ہے، جنھوں نے مذہب اور ایک فرقے کا نام استعمال کر کے اور بیرونی اور مقامی امداد سے بغاوت برپا کر رکھی ہے اور ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔‘
یاد رہے کہ آئین میں ترمیم اور خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ گذشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس حملے میں سکول کے طلبہ سمیت ڈیڑھ سو افراد مارے گئے تھے۔







