’ضربِ عضب اب صرف فوجی نہیں بلکہ قومی آپریشن بن گیا ہے‘

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد فوجی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنپشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد فوجی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے
    • مصنف, قندیل شام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف گذشتہ برس شروع کیے جانے والا فوجی آپریشن اب قومی آپریشن کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ نے بتایا کہ فوجی آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے قبائلی علاقہ جات سے باہر پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی ہزاروں کارروائیاں کی گئیں اور ان میں چار ہزار افراد گرفتار ہوئے۔

ان کارروائیوں کا تعلق فوجی آپریشن سے ہی تھا۔

جمعے کی شب بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر ملک کی سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت کے اتفاقِ رائے سے ظاہر ہے کہ وہ فوج کی جانب سے ایک علاقے میں شروع کی گئی کارروائی آج ملک بھر کی لڑائی بن چکی ہے۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جمعے کو ہی پانچ گھنٹے طویل کل جماعتی کانفرنس میں <link type="page"><caption> دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/01/150102_apc_military_courts_hk" platform="highweb"/></link> کیا ہے اور اس مقصد کے لیے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی۔

اس سوال پر کہ ایک جمہوری ملک میں فوجی عدالتوں کی کیا جگہ ہے، فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ عظیم تر جمہوریت کی جانب ایک قدم ہے جس کا فیصلہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے پاکستان کے مفاد میں کیا ہے۔‘

میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ان بیس نکات میں سے صرف ایک نکتہ ہے جو قومی ایکشن پلان کا حصہ ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے کوئی واضح فرق نہیں پڑے گا اور ’واحد فرق ان عدالتوں میں فوجی نظم و ضبط کی موجودگی کا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی کہا ہے کہ خصوصی عدالتوں کا قیام فوج کی خواہش نہیں لیکن یہ غیر معمولی حالات کی ضرورت ہیں اور ’حالات معمول پر آنے کے ساتھ ہی (عدالتی) نظام واپس اپنی اصل حالت میں آ جائے گا۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان نے شمالی وزیرستان میں گذشتہ برس جون میں شروع کیے جانے والے آپریشن ضربِ عضب کو ملک سے ’دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے سے پہلے بھی کارروائیاں تیزی سے جاری تھیں لیکن اس واقعے کے بعد خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے اب تک ضربِ عضب میں ایک ہزار سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کی جانب سے اب تک ضربِ عضب میں ایک ہزار سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے گئے ہیں

پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ضربِ عضب سے پہلے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فاٹا سے باہر پاکستانی علاقوں میں بھی ہزاروں کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں چار ہزار مبینہ دہشت گردوں، ان کے مددگاروں اور ہمدردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے اب تک <link type="page"><caption> ضربِ عضب میں 1200 سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/11/141115_zarbe_azb_5_months_details_rh.shtml" platform="highweb"/></link> کے دعوے بھی کیے گئے ہیں تاہم ان میں سے بیشتر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کو اس آپریشن کے بارے میں باقاعدگی سے مطلع کیا جاتا رہا ہے۔

جب جنرل باجوہ سے یہ پوچھا گیا کہ سوات میں فوجی آپریشن کے برعکس قبائلی علاقہ جات میں کارروائی کے بارے میں فوج کیوں کھل کر معلومات نہیں دیتی، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں آپریشن نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سوات میں ہونے والی کارروائی کم پیچیدہ تھی اور ’سوات کی سرحد نہ تو افغانستان سے لگتی ہے، نہ ہی وہاں اتنی تعداد میں دہشت گرد تھے اور نہ ہی ان دہشت گردوں میں اتنے زیادہ غیر ملکی شدت پسند تھے۔‘

اس سوال پر کہ فوج اس صورتحال میں آپریشن سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے کہ جب شدت پسند گروپوں کے مرکزی رہنما اور قائدین سرحد پار چلے گئے ہیں، میجر جنرل باجوہ نے کہا کہ شدت پسند تنظیموں کی قیادت کا ملک چھوڑ کر افغانستان بھاگ جانا بھی ضربِ عضب کے کارگر ہونے کی دلیل ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی کارروائی نے’ان شدت پسندوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔‘

میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق پشاور میں سکول پر حملہ ان ’بےتاب‘ طالبان کا ردعمل تھا جو فوجی آپریشن سے متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ آپریشن کے آغاز کے بعد طالبان کے جیسے ردعمل کا خدشہ تھا، اس پیمانے کا ردعمل سامنے نہیں آیا جو کہ اس آپریشن کی کامیابی کی ایک اور دلیل ہے۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ وہ آپریشن ضربِ عضب کی تکمیل کی تاریخ دینے سے قاصر ہیں اور ’یہ اس وقت ختم ہو جائے گا جب ہم اس علاقے سے شدت پسندی کا خاتمہ کر لیں گے۔‘