’قبائلی علاقوں کی ترقی حکمت عملی کا حصہ ہے‘

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج فاٹا میں طویل المدت اور پائیدار امن کے لیے کوشاں رہے گی

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج فاٹا میں طویل المدت اور پائیدار امن کے لیے کوشاں رہے گی

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اتوار کو جنوبی وزیرستان اور افغانستان کو ملانے والی ’تجارتی شاہراہ‘ کے اہم حصے کے افتتاح کے موقع پر کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کی ترقی پاک فوج کی اولین ترجیح اور حکمت عملی کا حصہ ہے۔

قبائلی عمائدین سے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام کے تعاون اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج فاٹا میں طویل المدت اور پائیدار امن کے لیے کوشاں رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب ان کے منصوبے کے مطابق کامیابی سے جاری ہے۔ جنرل راحیل کا کہنا تھا پاکستانی فوج کی توجہ نے آپریشن کے مقاصد قبل از وقت حاصل کرنے پر مرکوز ہے بلکہ انھوں نے حکومت کے ساتھ مل کر آپریشن سے متاثرہ علاقے کی بحالی کا منصوبہ بھی بنا لیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، افغانستان کو پاکستان سے ملانے والی اس تجارتی شاہراہ ’سنٹرل ٹریڈ کوریڈور‘ فاٹا اور خیبر پختونخوا کی معیشت دوبارہ بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

705 کلو میٹر طویل تجارتی شاہراہ جنوبی پختونخوا اور فاٹا کو افغانستان سے ملائے گی۔

’سنٹرل ٹریڈ کوریڈور، پاکستان آرمی کے انجینئرز کے زیرنگرانی تیار کی جا رہی ہے جب کہ اس پراجیکٹ کی فنڈنگ دوست ممالک نے کی ہے۔

جنرل راحیل شریف نے آج 76 کلو میٹر طویل شکئی- مکین روڈ کا افتتاح کیا جسے امریکی امداد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ ’سنٹرل ٹریڈ کوریڈور، کے ساتھ تعمیر کی گئی یہ سڑک بنوں - میرانشاہ - غلام خان روڈ کو وانا- -انگور اڈا روڈ سے ملائے گی۔

اس منصوبے سے ایک طرف اگر ان علاقوں کی معیشت بہتر ہو گی بلکہ سفر کا دورانیہ بھی کم ہو گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک فاٹا اور مالاکنڈ میں پاکستانی فوج سماجی اور توانائی کے شعبوں کے علاوہ مواصلاتی شعبے میں 178 منصوبے مکمل کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد قبائلی علاقوں کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک طویل المدت حل دینا ہے۔