’حقانی اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کا شمالی وزیرستان سے صفایا‘

’جتنا اسلحہ اور بارودی مواد سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لیا ہے اس سے شدت پسند اگلے 15 سال تک سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ لڑ سکتے تھے‘

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن’جتنا اسلحہ اور بارودی مواد سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لیا ہے اس سے شدت پسند اگلے 15 سال تک سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ لڑ سکتے تھے‘

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کو پانچ ماہ مکمل ہو گئے ہیں اور اس دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر سے اس علاقے کو صاف کر دیا گیا ہے۔

فوج کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک اور 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

یہ بات شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے آپریشنل کمانڈر میجر جنرل ظفر اللہ خان خٹک نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

میجر جنرل ظفر اللہ نے بتایا کہ 14 جون کو شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے 5 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔

ان کے بقول شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن میں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی، میرانشاہ، دتہ خیل، بویا اور دیگان کا بڑا علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کروایا جاچکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے باعث حقانی نیٹ ورک شمالی وزیرستان سے افغانستان چلا گیا ہے۔

آپریشنل کمانڈر نے مزید کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے استعمال میں مختلف گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

بارودی مواد کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میرانشاہ سے سکیورٹی فورسز نے 7000 کلو گرام جبکہ میر علی سے 23000 کلوگرام بارودی مواد برآمد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 4000 سے زیادہ بارودی سرنگیں تباہ کی گئی ہیں۔

آپریشنل کمانڈر نے امریکہ کے محکمہ دفاع کی اس رپورٹ کو بھی رد کیا کہ پاکستانی فوج شدت پسندوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

’یہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا جس کا ذکر پینٹاگون کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج شدت پسندوں کو کہیں بھی پراکسی وار کے لیے استعمال نہیں کر رہی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج ضرب عضب میں ہر شدت پسند گروہ بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

میجر جنرل ظفراللہ نے بتایا کہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے کمانڈروں کو بھی فوجی آپریشن میں ہلاک کیا گیا ہے اور اس تنظیم کا شمالی وزیرستان میں نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چین کے نمائندوں کو بھی میر علی لایا گیا تھا اور ان کو دکھایا گیا تھا۔

میجر جرنل ظفر اللہ نے کہا ’پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کی تقریباً ڈھائی ارب روپے کی جنگی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان میں وہ رقم شامل ہے جو ہتھیار خریدنے، اسلحہ، انفراسٹرکچر، تیار آئی ای ڈی، بارودی مواد، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، مواصلاتی نظام وغیرہ شامل ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے۔

ضرب عضب کے حوالے سے اعدادوشمار دیتے ہوئے آپریشن کمانڈر نے بتایا کہ پانچ ماہ میں پاکستانی فوج کے 42 افسر اور اہلکار ہلاک جبکہ 155 زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تقریباً 1200 شدت پسند ہلاک، 356 زخمی اور 227 حراست میں لیے گئے ہیں۔

میجر جنرل ظفر اللہ نے بتایا ’11 نجی جیل، 191 خفیہ خندقیں، 39 آئی ای ڈی فیکٹریاں، 4991 تیار آئی ای ڈی، 132 ٹن بارودی مواد، 2470 سب مشین گنیں، 293 مشین گنیں، 111 بھاری اسلحہ تحویل میں لیا گیا ہے۔‘

’جتنا اسلحہ اور بارودی مواد سکیورٹی فورسز نے تحویل میں لیا ہے اس سے وہ اگلے 15 سال تک سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ لڑ سکتے تھے۔‘

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ کوئی وقت نہیں دیا جا سکتا۔