15 سال کی عمر میں سزائے موت پانے والے قیدی کو پھانسی

،تصویر کا ذریعہJPP
پاکستان میں قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ایک ایسے شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے جس کی عمر سزا سنائے جاتے وقت صرف 15 برس تھی۔
لاہور میں جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ آفتاب بہادر کو بدھ کو علی الصبح تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔
مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے آفتاب پر 1992 میں لاہور میں ایک خاتون سمیت تین افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا۔
جس وقت انھیں سزائے موت سنائی گئی تھی، ان کی عمر 15 برس تھی، تاہم اس وقت تک قانوناً اس عمر میں موت کی سزا دی جا سکتی تھی۔
سنہ 2000 میں پاکستان میں سزائے موت دینے کے لیے کم از کم عمر 18 برس کر دی گئی تھی۔
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ریپریو نے آفتاب بہادر کو سزائے موت دیے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کی ڈائریکٹر مایا فوا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ پاکستان کے نظامِ انصاف کے لیے ایک شرمناک دن ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آفتاب مسیح کے ساتھ ہر معاملے میں ناانصافی ہوئی۔
ریپریو کا کہنا ہے کہ آفتاب کو دو عینی شاہدین کی گواہی پر موت کی سزا سنائی گئی لیکن وہ دونوں گواہان بعد میں اپنے بیان سے مُکر گئے تھے اور کہا تھا کہ ان سے یہ بیان زبردستی دلوایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ آفتاب کی سزائے موت پر عمل درآمد ایک ایسے موقعے پر ہوا ہے جب پاکستان میں کم عمری میں سزائے موت سنائے جانے کا ایک اور معاملہ بھی خبروں میں ہے۔
یہ کیس شفقت حسین نامی مجرم کا ہے جنھیں کراچی میں اغوا اور قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ جب شفقت کو سنہ 2004 میں عدالت کی جانب سے سزائے موت دی گئی اس وقت ان کی عمر 13 برس سے کچھ ہی زیادہ تھی۔
اس سلسلے میں شفقت کی پھانسی چار مرتبہ ملتوی ہو چکی ہے اور آخری بار نو جون 2015 کو ان کی پھانسی کا التوا ایک معمہ بھی بنا ہوا ہے۔
پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ہٹا لی گئی تھی۔
ابتدائی طور پر صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی سزا پر عمل درآمد شروع ہوا تھا تاہم بعدازاں اس حکم کو تمام مقدمات میں یہ سزا پانے والوں پر لاگو کر دیا گیا تھا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق ملک میں <link type="page"><caption> سال کے پہلے پانچ ماہ میں 135 افراد کو پھانسی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150605_hrcp_execution_fz.shtml" platform="highweb"/></link> دی جا چکی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ جس رفتار سے پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل ہو رہا ہے جلد ہی پاکستان ان ملکوں میں شامل ہو جائے گا جو لوگوں کی جان لینے کے سب سے زیادہ درپے ہیں۔







