’ پاکستان اب بھی ہمارے خون میں شامل ہے‘

،تصویر کا ذریعہBritish Christian Pakistani Association
- مصنف, اطہر کاظمی
- عہدہ, بی بی سی لندن
’ پاکستان اب بھی ہمارے خون میں شامل ہے بہت بھاری دل کے ساتھ ملک چھوڑ کر آئے ہیں لیکن جب جان محفوظ نہیں تو وہاں کیسے رہا جا سکتا ہے۔‘ لیاقت مسیح (حفاظت کے پیشِ نظر اصل نام مخفی رکھا جارہا ہے ) کا شمار ان ہزاروں عیسائی پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو حالیہ برسوں میں پناہ کی تلاش میں تھائی لینڈ پہنچے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً چار ہزار پاکستانی عیسائی پناہ گزین اس وقت تھائی لینڈ میں موجود ہیں۔
جبکہ مذہبی اور نسلی بنیاد پر تعصب کے شکار افراد کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ایک بین الاقوامی خیراتی ادارے انٹرنیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ تعداد آٹھ ہزار کے قریب ہے۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے بی بی سی اردو سے بات کرت ہوئے لیاقت مسیح نے بتایا کہ ان کے خاندان کو پاکستان میں شدید خطرات لاحق تھے اسی لیے وہ سب کچھ چھوڑ کر بھاری دل کے ساتھ تھائی لینڈ آ ئے ہیں۔
جب ان سے پو چھا گیا کہ وہ اور ان جیسے دیگر پاکستانی عیسائی تھائی لینڈ کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور افغانستان تو جا نہیں سکتے ، یورپ کا ویزہ ملنا تقریباً ناممکن ہے ، تھائی لینڈ کا ویزہ آسانی سے مل جاتا ہے اور خرچہ بھی زیادہ نہیں ہوتا اسی لیے پاکستان سے بھاگنے والے اکثر عیسائی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
لیاقت کے مطابق ان کا خاندان پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک مسلم اکثریت والے علاقے میں کئی دھائیوں سے مقیم تھا لیکن گزشتہ چند برسوں سے ان کو علاقہ چھوڑنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ان کے مطابق علاقے کے کچھ لوگ ان کے مکان پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ لیاقت کے خاندان کو ڈرا دھمکا کر اونے پنے داموں گھر بیچنے پر مجبور کر دیا جائے۔
پاکستان سے تھائی لینڈ آنے والوں کو ملک میں کام کرنےکی اجازت نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان میں سے بیشتر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
لیاقت نے بتایا کہ ان کو اور ان جیسے دیگر پناہ گزینوں کو یو این ایچ سی آر سمیت کسی ادارے سے کوئی مداد نہیں ملتی اور لوگ اپنی گزر بسر مقامی چرچوں کی جانب سے دی جانے والی خیرات سے کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضع رہے کہ تھائی لینڈ نے اقوامِ متحدہ کے مہاجرین سے متعلق کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہوئے اس لیے ملک میں موجود پناہ گزینوں کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
اکثر پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ ان کو وہاں سے کسی مغربی ملک بھیجوا دیا جائے۔
پاکستانی عیسائیوں کے مسائل کوملک میں اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کام کرنے والے خیراتی ادارے برٹش پاکستانی کرسچین ایسوسی ایشن کے سربراہ ولسن چوہدری نے حال ہی میں تھائی لینڈ کا دورہ کیا ہے اور وہاں مقیم عیسائی پاکستانی پناہ گزینوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ وہاں پر بیس بیس لوگ ایک کمرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کو رہائش تعلیم اور خوراک جیسی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔‘
ولسن چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ آئے روز پولیس لوگوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجوا دیتی ہے اور رہائی کے عوض ہزاروں روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
ولسن کے مطابق جن پاکستانیوں نے تھائی لینلڈ میں اقوامِ متحدہ کو پناہ کی درخواستیں دی ہوئی ہیں ان کی شنوائی میں سال ہا سال لگ جاتے ہیں۔
ولسن کا کہنا تھا کہ ’میں حکومتِ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک سے اپیل کرونگا کہ وہ ان لوگوں کی پناہ کی درخواستوں سے نمٹنے کے عمل میں تیزی لانے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔‘
لاہور کے ایک چرچ سے وابستہ پادری امینویل کھوکھر کے مطابق مسیحی برادری پاکستان میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے اس لیے بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پادری امینویل کھوکھر کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں کوٹ راھدا کشن ، جوزف کالونی اور اسی طرح کے پیش آنے والے دیگر واقعات کے بعد سے پاکستانی مسیح خوف کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں۔
’لوگ ڈرتے ہیں کہ کسی بھی وقت ان پر مذہب کی بے حرمتی کا الزام لگا کر انھیں ہجوم کے ہاتھوں مروایا جاسکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ جمہوری ادوار میں بدقسمتی سے اقلیتوں کے خلاف اقدامات میں اضافہ ہوا ہے ’ آپ کو شاہد یہ بات پسند نہ آئے لیکن ہم لوگ فوجی ڈکٹیٹرشپ کے دور میں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے تھے۔‘
پادری امینویل کا کہنا ہے کہ وہ لاہور اور اس کے مضافات سے تعلق رکھنے والے بہت سے ایسے خاندانوں کو جانتے ہیں جو اپنی حفاظت کے مدِ نظر بیرونِ ملک منتقل ہوئے ہیں۔
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہری اشرفی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے کچھ واقعات پیش آئے ہیں لیکن یہ دعویٰ کہ پاکستان میں عیسائی محفوظ نہیں ہیں قطعاً درست نہیں ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ پاکستان میں ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کا شکار بنے ہیں اور ان میں اقلیتوں کی تعداد چار پانچ سو سے زیادہ نہیں ہے۔‘
طاہر اشرفی کے مطابق پاکستان علما کونسل نے ملک میں مذہبی رواداری پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔
رمشا مسیح کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں جب بھی اقلیتوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ملک کے علما اور خصوصاً انھوں نے اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی ہے۔
ہزاروں کی تعداد میں مسیحوں کے ملک چھوڑنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ مذہبی نہیں معاشی معاملہ ہے ہم سب جانتے ہیں کے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں باہر جا رہے ہیں۔‘
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روز گار کی تلاش میں لوگ اپنے بچے بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں؟ اس بحث سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں عیسائیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی ایک لمبی داستان ہے ۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران عیسائی عبادت گاہوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں جہاں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بنے ہیں وہاں عیسائی آبادیوں کو بھی گہراؤ جلاؤ کا سامنا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی مسیح ایک ایسے ملک میں ہجـرت کرنے اور مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں کی نہ زبان اور نہ ہی تہذیب سے وہ واقف ہیں۔







