نجم سیٹھی بطور گواہ پیش، 35 پنکچرغائب

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں عام انتخابات سنہ 2013 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے سپریم کورٹ کے عدالتی کمیشن کی سماعت جاری ہے۔
پیر کو عدالتی کمیشن کے سامنے صوبہ پنجاب کے سابق نگراں وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی بطور گواہ پیش ہوئے تو حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے نجم سیٹھی سے ان 35 حلقوں میں دھاندلی کے حوالے سے ایک بھی سوال نہیں پوچھا گیا جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی نے منظم دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں عدالتی کمیشن کے اجلاس میں تحریکِ انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے نجم سیٹھی سے عہدہ سنبھالنے کے بعد پنجاب کی بیوروکریسی میں تبدیلی اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو الیکشن کمیشن کے ساتھ بطور رابطہ کار مقرر کرنے سے متعلق سوال پوچھا۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ نگراں حکومت کے دور میں جاوید اقبال کو چیف سیکریٹری بنانے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رضامندی بھی شامل تھی جبکہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چوہدری کو صوبے کا چیف سیکریٹری لگانے کی سفارش کی تھی۔ جس پر پاکستان تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے اعتراض کیا تھا۔
سابق نگراں وزیر اعلٰی سے سوالات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے طرف سے صوبے میں مبینہ منظم دھاندلی اور اُن کے کردار کے بارے میں ایک بھی سوال نہیں کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے میں 35 حلقوں میں دھاندلی کروائی ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کی ملی بھگت سے ہونے والی اس دھاندلی کو وہ ’35 پنکچرز‘ کا نام دیتے رہے ہیں۔
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کہ اس خدمت کے عوض نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب نجم سیٹھی عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تو ان ’35 پنکچرز‘ سے متعلق نہ تو تحریک انصاف کے وکیل اور نہ ہی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل نے اُن سے کوئی سوال پوچھا اور اور الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر مبینہ منظم دھاندلی کروانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ تاہم گواہان کی فہرست میں مذکورہ جماعت نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس کا نام نہیں دیا۔
نجم سیٹھی نے عدالتی کمیشن کی سماعت کے دوران کہا کہ وہ ’35 پنکچرز‘ پر جوابات دینے کے لیے پوری تیاری سے تھے لیکن کسی نے اس بارے میں کوئی سوال ہی نہیں کیا۔
نجم سیٹھی پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل شاہد حامد اور الیکشن کمیشن کے وکیل کی جرح کے دوران عمران خان متعدد بار اپنے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کے پاس جانے کے علاوہ اپنی نشست پر بیٹھے بڑی بےچینی سے اپنے ہاتھوں کو مل رہے تھے جس سے اُن کا اضطراب واضح ہو رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل اور اس جماعت کے سربراہ کے درمیان مشاورت کے بعد عبدالحفیظ پیرزادہ نے کمیشن سے استدعا کی کہ عمران خان کو بطور گواہ پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ وہ اس ضمن میں الگ سے درخواست دیں جس پر کمیشن فیصلہ کرے گا۔
صحافی اور اینکرپرسن حامد میر بھی بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔
کمیشن کی کارروائی کے دوران ان کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے کچھ حصے بھی دکھائے گئے جس میں قومی اسمبلی کے کچھ حلقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح ایک سو سے لے کر تین سو فیصد تک تھی۔
کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ووٹ ڈالنے کی شرح کے اعداد و شمار انتخابات کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فیفن سے لیے گئے تھے اور ووٹ ڈالنے کی شرح سے متعلق پیش کیے گئے اعداد و شمار کے بارے میں فیفن نے وضاحتی بیان بھی جاری کیا تھا۔







