’انتخابات کے فارم 15 کی کاپی کمیشن کو فراہم کرنے کا حکم‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ منظم دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے ملک بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو حکم دیا ہے کہ وہ انتخابی تھیلوں میں موجود فارم 15 کی کاپی حاصل کرکے کمیشن کو بھجوائیں اور یہ کام آٹھ جون تک مکمل کر لیا جائے۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن اس منظم دھاندلی کی تحقیقات کر رہا ہے۔
بدھ کو کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والی تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ فارم 15 حاصل کرنے کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو دی جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سیشن جج اپنے اپنے ضلعوں میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی انتخابات کے دوران تھیلوں میں موجود فارم 15 حاصل کریں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر قومی یا صوبائی اسمبلی کا حلقہ کسی دوسرے ضلعے میں بھی آتا ہے تو دونوں ضلعوں میں سے سینیئر سیشن جج یہ ذمہ داری ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ ان امور کی انجام دہی میں ضلعی الیکشن کمشنر اور اُن کا سٹاف ان جوڈیشل افسران کی معاونت کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف 2013 کے انتخابات کے بعد ریٹرننگ افسران پر الزام لگاتی رہی ہے کہ اُنھوں نے مبینہ منظم دھاندلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوڈیشل افسران صرف سفید، خاکی اور نیلے رنگ کے بیگ کھولنے کے پابند ہوں گے جن میں انتخابی مواد موجود ہوتا ہے جبکہ اس کے علاوہ وہ کسی بیگ کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔
کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اس کی ذمہ داری متعلقہ پولیٹیکل ایجنٹ کو سونپی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کسی بیگ میں فارم 15 موجود نہیں ہے تو اس بارے میں کمیشن کو آگاہ جائے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے کمیشن نے مبینہ منظم دھاندلی سے متعلق سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور وکلا سے بند کمرے میں مشاورت کی تھی جس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ فارم 15 حاصل کرنے کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو سونپ دی جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا موقف ہے کہ انتِخابی بیگ اس وقت تک نہیں کھولے جا سکتے جب تک ان حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار موجود نہ ہوں۔
2013 میں ملک بھر میں قومی اسمبلی میں 272 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے تھے جبکہ صوبہ پنجاب کی 305 صوبائی نشستوں پر، سندھ کی 138، خیبر پختون خوا کی 99 جبکہ صوبہ بلوچستان کی 51 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے تھے۔







