’منظم دھاندلی کے منصوبہ ساز کون تھے؟‘

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سنہ 2013 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے ایک سوالنامہ جاری کیا ہے جس میں سیاسی جماعتوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا یہ انتخابات منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تھے؟
اس سوالنامے میں سیاسی جماعتوں سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اگر یہ انتخابات شفاف نہیں تھے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور کیا ان انتخابات میں منظم دھاندلی کروائی گئی اور اگر یہ منصوبہ بنایا گیا تو اس کے منصوبہ ساز کون تھے؟
پیر کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی جوڈیشل کمیشن نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحققیات سے متعلق اپنی سماعت شروع کی ہے۔
کمیشن کی طرف سے دیے جانے والے سوالنامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیا دھاندلی صرف قومی اسمبلی کے حلقوں میں ہوئی ہے یا اس میں صوبائی اسمبلی کے حلقے بھی شامل ہیں؟
سوالنامے میں سیاسی جماعتوں سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا منظم دھاندلی کسی ایک صوبے کے چند مخصوص حلقوں میں ہوئی ہے یا چاروں صوبوں میں ہوئی ہے؟۔
جوڈیشل کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ دو روز میں ان سوالات سے متعلق شواہد کمیشن کے سامنے جمع کروا دیں۔
سماعت کے دوران کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ جماعتوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر عمومی شواہد کمیشن کے سامنے جمع کروائے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
بلوچستان نیشنل پارٹی ( عوامی) کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے موجودہ سیکرٹری یعقوب بابر بھی سنہ 2013 کے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی میں ملوث تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ یعقوب بابر اس وقت بلوچستان کے چیف سیکرٹری کے عہدے پر تعینات تھے۔
بی این پی کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ انھوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں دھاندلی کراوئی۔
شاہ خاور کا کہنا تھا کہ کمیشن اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرے اور ان سے اس بارے میں وضاحت طلب کرے جس پر کمیشن نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے دو روز میں جواب طلب کرلیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کمیشن کی کارروائی کے دوران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سنہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت تھیلوں میں موجود ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر کمیشن چاہے تو ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکتا ہے جو ایک ہفتے میں دھاندلی کے ثبوت سامنے لاسکتی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر دھاندلی نہیں ہوئی تو پھر ایک کروڑ اضافی بیلٹ پیپرز کیوں چھاپے گئے تھے؟
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک دھاندلی کے کوئی ثبوت عدالت میں جمع نہیں کروائے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کمیشن کی جانمب سے پی ٹی آئی سے دستاویزی ثبوت مانگنے کے بعد حزب مخالف کی جماعت سخت دباؤ میں ہے کہ وہ ثبوت کہاں سے لے کر آئیں۔
انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں ہونے والے حالیہ انتخابات اس بات کی دلیل ہے کہ سنہ 2013 کےعام انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی اور کسی جماعت کا مینڈیٹ نہیں چرایا گیا۔







